آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا

آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا

by none@none.com (امتیاز اعوان) on June 5, 2026 at 6:47 pm

آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو امن و امان اور ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں عوامی نظم و ضبط اور ریاستی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ نوٹیفکیشن میں تنظیم پر خوف و ہراس، انتشار اور نفرت انگیزی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق متعلقہ قوانین کے تحت جائزہ لینے کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومتی دستاویز کے مطابق صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف عوامی اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے سرگرم رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تنظیم کے خلاف یہ اقدام ریاستی سلامتی اور امن و امان کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی، ڈیزل کی قیمت برقرار

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی، ڈیزل کی قیمت برقرار

by none@none.com (یاسر نذر) on June 5, 2026 at 6:38 pm

وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پاکستان نے 6 جون سے شروع ہونے والے اگلے ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رودبدل کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا اور ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے ایک ہفتے کے لیے پیٹرولیم منصوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے جب کہ ئئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا۔ دوسری جانب وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے رجحانات اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی کی گئی ہے۔ حکومتی فیصلے کے نتیجے میں عوام کو پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر ریلیف ملے گا تاہم ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں کے لیے قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ امریکا ایران جنگ: پیٹرول کی قیمت کتنی بار بڑھیں اور کم ہوئیں؟ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔ اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔ اس کے بعد دوسری بار 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں عوامی ردعمل اور عالمی قیمتوں میں جزوی کمی کے تناظر میں حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 378 روپے فی لیٹر پر آ گئی تھی۔ 10 اپریل کو وزیراعظم نے ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت میں صرف 10 اور جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 366 روپے جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 385 روپے ہوگئی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 17 اپریل کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 385 روپے 54 پیسے سے کم ہو کر 353 روپے 43 پیسے ہو گئی تھی جب کہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 18 اپریل کو لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 70 روپے 04 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 369 روپے 72 پیسے سے کم ہو کر 299 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ اسی طرح جیٹ فیول کی قیمت بھی 23 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 494 روپے 71 پیسے سے کم ہو کر 471 روپے 01 پیسہ فی لیٹر مقرر کی گئی۔ 24 اپریل کو حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک بڑھادی تھی۔ اس کے بعد 30 اپریل کو بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ 9 مئی کو حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھادی تھیں، ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسےفی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر  ہوگئی تھی۔ 16 مئی کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 5 روپے کمی کے بعد 409 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت بھی 5 روپے کمی 409 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔ حکومت نے 22 مئی کو بھی پیٹرول فی لیٹر کی قیمت میں 6 روپے کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 403 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت بھی 6 روپے 80 پیسے کمی کے بعد 402 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی تھی۔ حکومت نے 29 مئی کو عید الاضحیٰ کے تیسرے دن بھی عوام کو تحفہ دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی تھی۔

پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات پر بھارتی اعتراضات سختی سے مسترد کردیے

پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات پر بھارتی اعتراضات سختی سے مسترد کردیے

by none@none.com (شوکت پراچہ) on June 5, 2026 at 5:15 pm

پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ مؤقف گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ جمعے کو اسلام آباد سے جاری بیان ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے بیان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے، بھارت جھوٹی کہانیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے بیانات کا مقصد بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو سخت قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور کشمیری عوام مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرے۔ ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ اس سے قبل جمعے کو ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے سات جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔

اسلام آباد کو اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبہ تیار

اسلام آباد کو اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبہ تیار

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 4:27 pm

اسلام آباد کو جدید اسمارٹ سٹی بنانے اور نظامِ حکمرانی میں بڑی تبدیلیوں کے لیے پانچ سالہ مرحلہ وار اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈا ”اڑان پاکستان“ اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ اہم تجویز کے تحت اسلام آباد کے لیے منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسمبلی اپنا سربراہ منتخب کرے گی، جس کا عہدہ وزیراعلیٰ یا میئر جیسا ہو سکتا ہے۔ مجوزہ نظام کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے سوا بیشتر اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر وفاقی اداروں کے متعدد اختیارات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) حکومت کو منتقل کیے جائیں۔ مزید یہ کہ مقامی ٹیکس، وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی منتقلی کیلئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس کے شعبوں میں 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے ایک یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کی سفارش بھی شامل ہے۔

ای سی سی اجلاس: اسلام آباد مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے 69 کروڑ روپے منظور

ای سی سی اجلاس: اسلام آباد مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے 69 کروڑ روپے منظور

by none@none.com (یاسر نذر) on June 5, 2026 at 4:10 pm

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی، اجلاس میں اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ وفاقی بجٹ سے چند روز قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس  ہوا، جس میں اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی جب کہ اجلاس میں دفاع، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے مالی فیصلے کیے گئے۔ ای سی سی  اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف  کے پروگرام کے لیے 7 ارب 26 لاکھ روپے سے زائد جب کہ پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔ اجلاس میں پی ایس او کے لیے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولیات جاری رکھنے اور  گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے منظورکیے گئے۔ گلگت بلتستان حکومت کے لیے 4 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سمیت کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکیج کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد فنڈز منظور کیے گئے۔ خیبر پختونخوا کے لیے سیپ کے تحت 2 ارب 84 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے، پاکستان منٹ فیز ٹو اے کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔ ای سی سی نے وزارتِ داخلہ کی پیش کردہ 7 سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے اسلام آباد خودکش دھماکے کے شہدا اور متاثرین کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے معاوضہ منظور کیا۔ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی توسیع کے لیے 1 ارب 88 کروڑ، ریکوڈک پراجیکٹ کی سیکیورٹی چارجز کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے کے لیے 80 کروڑ جب کہ نیکٹا کے لیے 15 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ ای سی سی اجلاس میں  آئی پی او پاکستان کے مالی سال 26-2025 کے لیے 91 کروڑ 47 لاکھ روپے کے بجٹ تخمینے منظور کیے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں اور الائونسز کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے کی گرانٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے بھی  3 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔ اجلاس میں بجٹ سازی کے عمل میں کردار ادا کرنے والی بعض سرکاری اداروں کو بجٹ اعزازیہ پالیسی میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

ورلڈ کپ 2026: فیفا نے 60 شائقین کو مفت ملنے والے ٹکٹس منسوخ کر دیے

ورلڈ کپ 2026: فیفا نے 60 شائقین کو مفت ملنے والے ٹکٹس منسوخ کر دیے

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 3:47 pm

فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹبال ایسویسی ایشن (فیفا) نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے تقریباً 60 شائقین کو غلطی سے مفت ملنے والے ٹکٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ ٹکٹس ویب سائٹ میں تکنیکی خرابی کے باعث بغیر کسی قیمت کے جاری ہو گئے تھے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق فیفا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ ٹکٹس چیک آؤٹ کے دوران ادائیگی کے نظام میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث صفر ڈالر الاٹ ہو گئے تھے، جس پر ادارے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں منسوخ کر دیا ہے۔ فیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ اس غلطی پر افسوس ہے اور متاثرہ شائقین کو درست قیمت ادا کرکے اپنے ٹکٹس برقرار رکھنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ٹکٹس اب بھی محفوظ ہیں تاہم ان کی خریداری مکمل ادائیگی کے بعد ہی برقرار رہے گی۔ یہ واقعہ فیفا کے ورلڈ کپ ٹکٹنگ پروگرام میں سامنے آنے والی ایک اور تکنیکی خرابی ہے، جس کی امریکی ریاست نیویارک اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلز ممکنہ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت تحقیقات کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ غلطی 21 مئی کو اس وقت سامنے آئی جب ٹکٹنگ پورٹل پر کچھ صارفین کو مفت ٹکٹس الاٹ ہو گئے تھے۔ یہ تاریخ فیفا کے اس اعلان کے چند ماہ بعد کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام 104 میچز کے ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں۔ فیفا نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹکٹس کی فروخت جاری ہے جب کہ میچز کے لحاظ سے طلب اور رسد کے مطابق قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان بھی موجود ہے۔ ادارے نے اپنی آفیشل ری سیل پلیٹ فارم بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سے 15 فیصد کمیشن لیا جاتا ہے تاکہ بلیک مارکیٹ کو روکا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے ورلڈ کپ کے ٹکٹس کی قیمتیں سابقہ ٹورنامنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہیں جب کہ کچھ گروپ اسٹیج میچز کے لیے کم قیمت ٹکٹس بھی دستیاب رکھے گئے ہیں۔ فائنل میچ کے لیے ٹکٹ کی قیمت 32,970 ڈالر تک بتائی گئی ہے۔

فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے سے چھوٹے دکانداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے سے چھوٹے دکانداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 3:44 pm

حکومت نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک آسان ٹیکس نظام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت ایک عام دکاندار ٹیکس نیٹ میں آنے کے بعد اس اسکیم سے فائدے اٹھا سکتا ہے۔ وہ دکاندار جن کی سالانہ فروخت بیس کروڑ روپے تک یا اس سے کم ہے، انھیں آسان ٹیکس نظام کے تحت آمدن پر ایک فی صد ٹیکس دینا ہوگا۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ چھوٹے دکانداروں پر ٹیکس کا بوجھ پہلے کے مقابلے میں کم اور واضح ہوگا اور انہیں مختلف شرحوں اور پیچیدہ حساب کتاب سے نجات ملے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ایک فارم جاری کیا گیا ہے جس میں دکاندار اوردکان کا نام، دکان کا پتہ، شناختی کارڈ نمبر، کاروبار کی نوعیت، سالانہ فروخت اور دیگر بنیادی معلومات درج کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی اور رجسٹریشن سے متعلق مختصر تفصیل بھی شامل ہے تاکہ تمام عمل ایک ہی صفحے میں مکمل ہو سکے۔ یہ فارم اردو سمیت مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا اور چھوٹے دکاندار اسے نہ صرف ایف بی آر کی ویب پورٹل بل کہ قریبی ٹیکس دفتر میں بھی جمع کرا سکیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دکاندار بغیر کسی مشکل کے چند منٹوں میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکیں اور نئے ٹیکس نظام کا حصہ بن جائیں۔ فارم جمع کرانے کے بعد چھوٹے دکانداروں کو اسکیم میں شمولیت کے لیے کم از کم 25,000 روپے کی ابتدائی فیس جمع کرانا ہوگی۔ ٹیکس کی عدم ادائیگی یا غلط بیانی کی صورت میں 10,000 سے 50,000 روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق دکاندار کی جانب سے جمع کرائے گئے اپنے گوشواروں کی آڈٹ سے متعلق معاملات میں نرمی رکھی جائے گی اور عمومی آڈٹ کا عمل محدود ہوگا۔ چھوٹے دکاندارں کو سہولت دی جائے گی کہ پہلے سے ادا کیا گیا ٹیکس نئے نظام میں ایڈجسٹ کرا سکیں گے، جس سے اضافی مالی دباؤ کم ہوگا۔ رجسٹرڈ دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک رجسٹریشن پلیٹ اور کیو آر کوڈ دیا جائے گا جو دکان کے باہر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ وہ دکاندار جو ایف بی آر کی رجسٹریشن پلیٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی دکانوں کے باہر آویزاں کریں گے، انھیں ایف بی آر کے اہلکاروں کی طرف سے پوچھ گچھ یا معائنوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت کے مطابق اس سے کاروبار میں غیر یقینی صورتِ حال کم اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ سے باہر چھوٹے دکانداروں کی حتمی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں چھوٹے کاروبار کا تقریبا 40 سے 60 فی صد حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فکسڈ ٹیکس اسکیم میں جان بوجھ کر طریقہ کار کو سادہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ دکاندار بھی آسانی سے شامل ہو سکیں جو پہلے ٹیکس کے نظام سے باہر تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ نیا نظام تاجر تنظیموں اور دکاندار نمائندوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے عام دکاندار کے لیے آسان بنایا جا سکے۔ اس نظام میں پہلے سے رجسٹرڈ فائلرز اور نئے شامل ہونے والے نان فائلرز دونوں کے لیے شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ دکانداروں کو ایک ہی آسان اور قابلِ فہم نظام میں لانا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں لاکھوں دکاندار موجود ہیں اور اگر وہ اس سادہ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو نہ صرف ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا بل کہ مجموعی معاشی نظام بھی زیادہ مستحکم اور شفاف ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد ٹیکس کا بوجھ بڑھانا نہیں بل کہ اسے زیادہ منصفانہ اور قابلِ برداشت بنانا ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظام چھوٹے دکانداروں کے لیے اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں ٹیکس کا طریقہ کار سادہ بنایا گیا ہے، رجسٹریشن آسان کی گئی ہے اور کاروبار کو غیر رسمی دائرے سے نکال کر باقاعدہ معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے دکاندار اور ریاست دونوں کے درمیان اعتماد بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کا جنگی جہازوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا

امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کا جنگی جہازوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 2:41 pm

خلیجِ عمان میں امریکی اور ایرانی بحریہ کے درمیان مبینہ کشیدگی کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں کہا گیا کہ ایران نے خلیجِ عمان میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر وارننگ کے طور پر میزائل اور ڈرون فائر کیے، جس کے بعد امریکی جہازوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر نہ تو حملہ کیا اور نہ ہی ان کی جانب فائرنگ کی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو یہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتی۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج خطے کے سمندری علاقوں میں معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف نافذ پابندیوں پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خلیجِ عمان میں موجود 2 امریکی جنگی جہازوں کی جانب وارننگ کے طور پر میزائل اور ڈرون فائر کیے، یہ وارننگ قادر میزائلوں اور ”شہید دانا“ نامی نئے حملہ آور ڈرونز کے ذریعے دی گئی۔ ایرانی بحریہ نے اپنے بیان میں واقعے کی تاریخ یا وقت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم کہا گیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی بحریہ کے مطابق یہ کارروائی سمندری جارحیت، تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی مبینہ ضبطی اور ہراسانی کے خلاف جاری اقدامات کے تحت کی گئی، کارروائی کے بعد امریکی جنگی جہاز DDG-103 اور DDG-87 خلیج عمان چھوڑ کر بحرِ ہند کی جانب روانہ ہوگئے۔ بحریہ کے مطابق حالیہ دنوں میں کی گئی اسی نوعیت کی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف جارج ڈبلیو بش کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل امریکی جنگی جہازوں اور امریکی بحری افواج کے کمانڈ سینٹر سے وابستہ بحری یونٹس نے بحرِ عمان سے دوری اختیار کی بلکہ یو ایس ایس ٹریپولی نامی امفیبیئس اسالٹ شپ بھی علاقے سے نکل گئی۔ ایرانی بحریہ کے آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے بیان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر سمندری راستوں میں مداخلت اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایسی سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ دشمن بحری جہازوں اور استعمال کیے گئے میزائلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر ایرانی بحریہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب امریکی بحریہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج خلیجِ عمان میں اپنی معمول کی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور سمندری نگرانی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے ان متضاد بیانات کے باعث خلیجِ عمان میں پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے گرد سمندری سلامتی کی صورت حال پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا ایرانی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے نفاذ کو جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ ایران ماضی میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری آمدورفت کے حوالے سے متعدد بار انتباہات جاری کر چکا ہے۔ خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہیں سمجھی جاتی ہیں، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔

کوکین کوئین پنکی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت، پولیس تفتیش کے لیے کراچی جائے گی

کوکین کوئین پنکی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت، پولیس تفتیش کے لیے کراچی جائے گی

by none@none.com (شمیل احمدریاض احمد) on June 5, 2026 at 2:34 pm

کوکین کوئین کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں درج مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، لاہور پولیس نے سیشن کورٹ سے ملزمہ کی تفتیش کے لیے لاہور منتقلی کی اجازت حاصل کرلی ہے جب کہ مختلف پولیس ٹیموں کی کراچی روانگی بھی متوقع ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے انمول عرف پنکی کو لاہور منتقل کرکے تفتیش کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ اور متعلقہ عدالت سے چند روز قبل رجوع کیا تھا، جس کے بعد سیشن کورٹ سے مطلوبہ اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔ انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں مجموعی طور پر 5 مقدمات درج ہیں، جن کی پولیس کو مزید تفتیش درکار ہے۔ اس سلسلے میں اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز ڈویژن کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کراچی کی متعلقہ عدالت سے قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزمہ کو لاہور منتقل کرے گی۔ اس کے علاوہ عدالت سے مقدمات کی تفتیش اور مزید قانونی کارروائی کے لیے بھی باقاعدہ اجازت طلب کی جائے گی۔ پنکی کے اہم سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ مؤخر دوسری جانب سیشن عدالت جنوبی کراچی میں انمول عرف پنکی کے خلاف گارڈن تھانے میں درج منشیات کے مقدمے کے حوالے سے مبینہ سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے مقدمے کا چالان پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ہفتے لازمی طور پر چالان پیش کرنے کا حکم دیا اور درخواست ضمانت پر فیصلہ آئندہ ہفتے تک مؤخر کر دیا۔ عدالت میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث چالان پیش نہیں کیا جا سکا۔ مقدمے میں ملزمان سہیل الرحمان اور ذیشان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ادھر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں انمول عرف پنکی کے خلاف قتل اور منشیات کے سات مقدمات کی سماعت بھی ہوئی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسران پیش ہوئے جب کہ پولیس نے چالان جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کا چالان اب تک کیوں پیش نہیں کیا گیا، جس پر پولیس نے تحقیقات مکمل نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے پولیس کو پیر تک تمام مقدمات کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قتل کے ایک مقدمے میں مدعی کے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مدعی شیروز کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔ پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف گزری اور بغدادی تھانوں میں قتل اور منشیات سمیت مجموعی طور پر سات مقدمات درج ہیں۔ واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔ کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔

05185512dd411a9

‘ہنزہ لاہور جیسا ہو یا کراچی جیسا‘: میئرکراچی کا خرم دستگیر کے بیان پر ردِ عمل

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 1:40 pm

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا ایسا شہر ہے جو پورے ملک کو سہارا دیتا ہے۔ انہوں نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی حکومت کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کی قومی خدمات اور معاشی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں خرم دستگیر کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ہنزہ کے عوام سے سوال کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں یا کراچی جیسا۔ مرتضیٰ وہاب نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جہاں قدرتی آفات اور مشکلات کے دوران حکومت اور سیاسی قیادت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت متاثرہ افراد کے ساتھ موجود رہی اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی بحالی مہم جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جب کہ 12 لاکھ سے زائد گھر متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ایک غریب پرور اور ملک گیر شہر ہے جہاں پاکستان کے تمام علاقوں سے لوگ آ کر روزگار اور بہتر زندگی کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بقول کراچی نہ صرف غریب اور کمزور طبقات کا سہارا بنتا ہے بل کہ ملکی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی وہ شہر ہے جو پورے پاکستان کی معیشت کو متحرک رکھتا ہے اور اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہنزہ بھی کراچی کی طرح پورے ملک کی خدمت کرنے والا علاقہ بنے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابی نعروں اور وعدوں کے بجائے عملی کارکردگی کو مدنظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام دوست پالیسیوں کو عملی شکل دینے کی مثال اگر کسی سیاسی جماعت نے قائم کی ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ واضح رہے کہ ہنزہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے نام لیے بغیر پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ اگلے 5 برسوں میں ہنزہ کو کراچی جیسا بننا ہے یا لاہور جیسا؟ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سڑکیں وہی بنائیں گے جنہوں نے ماضی میں شاہراہوں کا جال بچھایا، گلگت بلتستان سے بلوچستان تک ہر منصوبے پر شیر کا نشان ہے۔

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو بھارت سے شکست

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو بھارت سے شکست

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 12:37 pm

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 3 کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دے دی ایونٹ سے باہر کردیا ہے۔ جمعے کو ڈھاکا میں کھیلے گئے انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میچ میں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں، جہاں سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی ٹیم کو بھارت کے ہاتھوں 3 کے مقابلے میں 5 گول سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد قومی ہاکی ٹیم کا ایونٹ میں سفر تمام ہوگیا۔ میچ کے تیسرے کوارٹر کے اختتام تک پاکستان کو بھارت پر 2-3 سے برتری حاصل تھی اور قومی ٹیم کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی تھی تاہم چوتھے اور آخری کوارٹر میں پاکستانی ٹیم اچھا کھیل پیش نہ کرسکی۔ آخری کوارٹر میں بھارتی ٹیم نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 3 گول داغے اور میچ کا پانسا پلٹ کر فتح اپنے نام کرلی۔ بھارت کی جانب سے اشیش تانی نے ہیٹ ٹریک سمیت 4 گول کیے جب کہ پاکستان کی جانب سے عدیل فرحان اسلم اور عزیر نے گول کیے۔ اس جیت کے بعد بھارتی ہاکی ٹیم نے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا، فائنل میں کل بھارت کا مقابلہ جاپان سے ہوگا جب کہ پاکستان ملائیشیا سے تیسری پوزیشن کا میچ کھیلے گا۔

ویزا پابندیاں، جنگ اور سیکیورٹی خدشات، ایرانی شائقین کی ورلڈ کپ تک رسائی مشکل

ویزا پابندیاں، جنگ اور سیکیورٹی خدشات، ایرانی شائقین کی ورلڈ کپ تک رسائی مشکل

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 12:17 pm

2026 فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل امریکا کی ویزا پالیسیوں، ایران کے خلاف جنگ اور سیکیورٹی خدشات نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی دل چسپی متاثر کرنا شروع کر دی ہے۔ خاص طور پر ایرانی شائقین اور قومی ٹیم کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنے والی ایرانی قومی ٹیم اور اس کے شائقین کو امریکا کی ویزا پابندیوں اور جاری جنگ کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے ایران سمیت چند ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا کے اجرا پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس فیصلے کے باعث ایرانی شائقین کے لیے ورلڈ کپ کے دوران امریکا کا سفر تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی شائقین کا کہنا ہے کہ ویزا مسائل کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث امریکا پہنچنا پہلے ہی ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ انہیں امریکا جانے کے لیے کئی ممالک کے راستے سفر کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے بھی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کے باعث نہ صرف ایرانی قومی ٹیم کی تیاری متاثر ہوئی بل کہ متعدد کھیلوں کی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ ایرانی ٹیم نے جنگ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی یاد میں ایک دوستانہ میچ سے قبل اسکول بیگ اٹھا کر میدان میں آنے کا علامتی اقدام بھی کیا تھا، جس کی تصاویر عالمی میڈیا میں نمایاں رہیں۔ دوسری جانب جنگ اور سیاسی کشیدگی کے باعث دنیا کے دیگر ممالک کے شائقین بھی ورلڈ کپ کے دوران امریکا سفر کرنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض شائقین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے عالمی مقابلوں کو سیاست اور تنازعات سے الگ رہنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ کینیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اسپورٹس وکیل خیران نور کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے اب صرف کھیل کا معاملہ نہیں رہے بل کہ عالمی سیاست، ویزا پالیسیوں اور نقل و حرکت کی آزادی جیسے مسائل بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑیوں اور شائقین کی شرکت سیاسی حالات اور سفارتی فیصلوں سے متاثر ہو تو ایسے مقابلوں کے عالمی اور جامع ہونے کے تصور پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ واضح رہے کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں۔ یہ تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ ہوگا جس میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی، تاہم ٹورنامنٹ سے قبل ویزا پابندیوں، جنگی حالات اور سیکیورٹی خدشات نے منتظمین کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

وفاقی حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان

وفاقی حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 12:01 pm

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔ جمعے کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اس نئی اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔ وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لارہی ہے، فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی، اس آسان اسکیم کا اطلاق ان دکانداروں پر ہوگا، جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا، ایک فیصد اس میں فکس ٹیکس ہوگا، 4 زبانوں میں ایک صفحہ کا سادہ فارم موجود ہے، یہ سادہ الفاظ میں اسکیم ہے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فارم جمع کرانے سے پہلے اگر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے تووہ بھی اس میں ایڈجسٹ ہوگا مگر ایک شرط ہے کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت دکاندار کو کم ازکم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا ہوگا، اسکیم میں جو بھی دکاندار آئے گا، یہ ایک اختیاری سکیم ہے یعنی فارم جمع کراکر سکیم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، اگر نارمل آپشن میں رہنا چاہتے ہیں تو بھی رہ سکتے ہیں، ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی جس پر اس دکاندار کی تفصیلات درج ہوں گی اور ساتھ ہی کیوآر کوڈ ہوگا، اس اسکیم میں نان فائلر اور فائلر دکاندار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال جتنی ہونی چاہیے، جو بھی دکاندار اس اسکیم میں آئیں گے انہیں پی او ایس سے استثنیٰ مل جائے گا۔ وزیرِ خزانہ محمد اونگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے سے پہلے چھوٹے دکانداروں سے باقاعدہ مشاورت کی گئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تمام معاشی چیلنجز کا مقابلہ اپنے ہی وسائل سے کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال آنے والے بدترین سیلاب کے باوجود ملک میں معاشی استحکام برقرار رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور عالمی دباؤ کے باوجود ہماری معیشت مستحکم رہی، حکومت کا اب پورا زور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر ہے تاکہ ٹیکس نظام میں وسعت لائی جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، اپنے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے کر جانا بہت اہم ہے،  ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ ہوئی ہیں، ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں وہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ہے، 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل میں اپنا حصہ ملائیں۔ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی مشاورت اور مطالبے کے ساتھ اسکیم لائی جا رہی ہے، ٹیکس دہندگان ٹیکس میں آسانی چاہتے ہیں، جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کررہے تھے وہ اب خود کو پیش کررہے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟

کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟

by none@none.com (ماجد علی) on June 5, 2026 at 11:24 am

کراچی کے مسائل کا ذکر چھیڑ دیں، چند ہی لمحوں میں کوئی نہ کوئی یہ فیصلہ سنا دیتا ہے ”کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔“ یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر چلانے والے ادارے کہاں تھے؟ سڑکیں بنانا، پانی فراہم کرنا، سیوریج کا نظام چلانا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا، کچرا اٹھانا اور شہری منصوبہ بندی کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا یہ کام بھی ان لوگوں کے سپرد تھے جو روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی آئے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ہی ہجرت کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مہاجر یہاں آ بسے۔ بعد ازاں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ انہی لوگوں نے فیکٹریوں میں کام کیا، بندرگاہ کو افرادی قوت دی، ٹرانسپورٹ چلائی، کاروبار کھڑے کیے اور معیشت کا پہیہ گھمایا۔ اگر کراچی نے پاکستان کے معاشی دارالحکومت کا مقام حاصل کیا تو اس میں مقامی اور غیر مقامی دونوں کا حصہ شامل ہے۔ دنیا کے بڑے شہر آبادی بڑھنے سے تباہ نہیں ہوتے، ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی بھی ہجرتوں کے مراکز ہیں، مگر وہاں حکمران آنے والی آبادی کے مطابق سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔ کراچی میں بدقسمتی سے ایسا کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا۔ شہر پھیلتا گیا مگر انفرااسٹرکچر سکڑتا گیا۔ آبادی بڑھتی گئی مگر پانی کا نظام وہی پرانا رہا۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں مگر پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوتی گئی۔ بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہوتی رہیں مگر نکاسی آب کے منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی بارش بھی کراچی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کراچی قومی خزانے میں اربوں روپے کا حصہ ڈالتا ہے تو اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب مسائل کا ذکر ہو تو سارا ملبہ ”غیر مقامی افراد“ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمران، منصوبہ ساز اور ادارے اس پوری کہانی میں کہیں موجود ہی نہیں۔ سندھ حکومت کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور دیگر اہم شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے ماتحت رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، کچرے کے پہاڑ کھڑے ہیں اور سیوریج کا نظام ناکام ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟ بلدیاتی نظام کی حالت بھی کسی راز سے کم نہیں۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل محدود ہیں اور سیاسی رسہ کشی الگ جاری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ شہری آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کے علاقے کی ٹوٹی سڑک، ابلتا گٹر یا جمع کچرا آخر کس کی ذمہ داری ہے۔ کراچی شاید دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔ اصل مسئلہ آبادی نہیں، منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کراچی کیوں آئے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے ان کے آنے کے لیے تیاری کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس بحث کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب مسائل کا ذمہ دار کسی مخصوص زبان، نسل یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔ کراچی ماضی میں اس کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ شہر کو نقصان اگر کسی نے پہنچایا ہے تو وہ غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص منصوبہ بندی اور جواب دہی کے فقدان نے پہنچایا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان عوامل پر کم اور الزام تراشی پر زیادہ بات ہوتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ آسان جوابات کے بجائے مشکل سوالات پوچھے جائیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزی کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے؟ یا وہ نظام جو دہائیوں تک بڑھتے ہوئے مسائل کو نظر انداز کرتا رہا؟ کراچی کی کہانی ہجرت کی نہیں، حکمرانی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک الزام بدلتے رہیں گے مگر شہر کے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

پاکستان میں سونا پھر سستا، فی تولہ قیمت کیا ہوگئی؟

پاکستان میں سونا پھر سستا، فی تولہ قیمت کیا ہوگئی؟

by none@none.com (سید صفدر عباس) on June 5, 2026 at 10:47 am

ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کمی ہو گئی۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونا فی تولہ 1 ہزار 469 روپے سستا ہو گیا۔ اس کمی کے ساتھ ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 4 لاکھ 67 ہزار 816 روپے ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 1 ہزار 323 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 1 ہزار 12 روپے ہو گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 14.68 ڈالرز کی کمی سے 4453 ڈالرز فی اونس ہو گیا۔ اس کے علاوہ فی تولہ چاندی کی قیمت 67 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 730 روپے پر آ گئی ہے۔

جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی

جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی

by none@none.com (شہاب جعفری) on June 5, 2026 at 10:17 am

ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔ ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟ اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔ ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔ تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟ اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔ منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔ ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔ لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟ ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

املی اور ادرک کا فرحت بخش شربت، جو گرمی کو دور بھگا دے

املی اور ادرک کا فرحت بخش شربت، جو گرمی کو دور بھگا دے

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 9:48 am

گرمیوں کے موسم میں خود کو تروتازہ رکھنے کے لیے ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں املی اور تازہ ادرک سے تیار کردہ شربت ایک ایسا بہترین انتخاب ہے جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہے بلکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس اور ہاضمے کو بہتر بنانے والی خصوصیات سے بھی مالا مال ہے۔ دنیا کے گرم خطوں میں املی سے بنے مشروبات طویل عرصے سے اپنے ٹھنڈے اور تازگی بخش احساس کے لیے مقبول رہے ہیں۔ جب اس میں ادرک شامل کر دی جائے تو اس کا ذائقہ مزید نکھر جاتا ہے اور یہ پینے میں ایک انوکھا مزہ دیتا ہے۔ املی اپنے قدرتی کھٹے ذائقے کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس، پوٹاشیم اور نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتی ہے۔ دوسری جانب، ادرک میں قدرتی طور پر جنجرول پایا جاتا ہے جو صحت اور نظام ہاضمہ کے لیے انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔ ان دونوں اجزا کا امتزاج ایک شاندار صحت بخش مشروب بناتا ہے جسے گرمیوں کے دوران روزانہ کی بنیاد پر پیا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب کم چینی والے صحت بخش مشروبات پسند کرنے والوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس شربت کو تیار کرنے کا طریقہ بہت ہی آسان ہے اور اس میں محض پندرہ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اسے بنانے کے لیے درج ذیل طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تین چمچ بغیر بیج کی املی کو دس منٹ کے لیے نیم گرم پانی میں بھگو دیں۔ اس کے بعد اسے اچھی طرح مسل کر چھان لیں تاکہ گودا الگ ہو جائے۔ ایک برتن میں املی کا گودا، ایک چمچ کچلا ہوا ادرک اور تین کپ پانی ڈال کر دس سے پندرہ منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں۔ اب اس آمیزے کو چھان کر ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے پر اس میں ایک چمچ گڑ یا شہد، آدھا چمچ بھنا ہوا زیرہ پاؤڈر، چوتھائی چمچ کالا نمک اور ایک چمچ لیموں کا رس شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ حسب ضرورت برف اور پودینے کے پتوں سے سجا کر ٹھنڈا ٹھنڈا پیش کریں۔ اس شربت کو مزید صحت بخش اور مزیدار بنانے کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ بغیر بیج والی قدرتی املی کا استعمال کریں۔ ادرک کو اچھی طرح دھو کر چھلکے سمیت استعمال کریں اور پکانے سے پہلے اسے کچل لیں تاکہ اس کا ذائقہ اچھی طرح نکل سکے۔ وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس میں اضافے کے لیے لیموں کا رس اور تازہ پودینہ شامل کریں۔ سفید چینی کی جگہ گڑ کا استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور فائبر کی مقدار بڑھانے کے لیے تخم ملنگا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس شربت کو محفوظ کرنے کے لیے ہمیشہ شیشے کی بوتلوں کا استعمال کریں، یا پھر اسے برف کی کیوبز کی صورت میں جما کر بعد میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب نہ صرف آپ کی پیاس بجھائے گا بلکہ آپ کی صحت کو بھی برقرار رکھے گا۔ اگرچہ یہ مشروب صحت بخش اجزا پر مشتمل ہے، تاہم کسی بھی غذا یا مشروب کو متوازن مقدار میں استعمال کرنا ہی بہتر رہتا ہے۔ گرمیوں میں مناسب پانی پینے اور متوازن خوراک کے ساتھ ایسے قدرتی مشروبات جسم کو تروتازہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں بڑی کارروائی، غیر قانونی طور پر رکھے گئے ایک لاکھ سے زائد کاکروچز برآمد

آسٹریلیا میں بڑی کارروائی، غیر قانونی طور پر رکھے گئے ایک لاکھ سے زائد کاکروچز برآمد

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 8:37 am

آسٹریلیا میں محکمہ تحفظِ ماحول کے حکام نے ایک منفرد اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے ایک لاکھ سے زیادہ زندہ کاکروچ برآمد کر لیے ہیں۔ یہ تمام کاکروچ ملک میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے تھے اور انہیں تجارتی پیمانے پر پالا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق، آسٹریلیا کی تاریخ میں غیر ملکی بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کو اتنی بڑی تعداد میں ضبط کرنے کا یہ پہلا اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ نیو ساؤتھ ویلز ریاست کے شہر باتھرسٹ میں پیش آیا، جہاں ایک کاروباری بریڈر کے پاس سے مڈگاسکر ہِسنگ اور ڈوبیا نسل کے کاکروچ پکڑے گئے۔ ان کی مجموعی مالیت تقریباً دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر بتائی گئی ہے، یہ رقم پاکستانی روپوں میں 3 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مڈگاسکر ہِسنگ کاکروچ دنیا کے بڑے کاکروچوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی لمبائی تقریباً پانچ سے آٹھ سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں یہ حشرات عام کاکروچ کے مقابلے میں کافی بڑے اور چمکدار بھورے رنگ کے دکھائی دیے۔ آسٹریلیا میں پائے جانے والے عام کاکروچ اس کے مقابلے میں کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ملک میں کاکروچ کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں کیونکہ یہاں کی آب و ہوا ان کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ مقامی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی نسل کے یہ کاکروچ ممکنہ طور پر پالتو جانوروں، خاص طور پر چھپکلیوں اور دیگر رینگنے والے جانوروں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جا رہے تھے، کیونکہ ان کا سائز بڑا ہونے کی وجہ سے کم تعداد میں بھی خوراک پوری ہو جاتی ہے۔ تاہم حکام نے پالتو جانور رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کے بجائے محفوظ اقسام جیسے کرکٹ یا مقامی لکڑی والے کاکروچ استعمال کریں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں غیر ملکی نسلوں کو آسٹریلیا میں درآمد کرنا، پالنا یا فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حشرات ماحولیاتی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، بیماری پھیلا سکتے ہیں اور مقامی جنگلی حیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آسٹریلیا میں سخت بایو سکیورٹی قوانین موجود ہیں تاکہ زراعت اور قدرتی ماحول کو نقصان دہ کیڑوں اور جانداروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ایسے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔ محکمے کے ترجمان کے مطابق فی الحال اس کارروائی میں ملوث شخص پر کوئی باقاعدہ مقدمہ یا چارجز نہیں لگائے گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کیڑے رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ برآمد کیے گئے تمام کاکروچوں کو مروجہ طریقہ کار کے تحت تلف کر دیا جائے گا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی امریکا سے بھارت کے لیے روانہ

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی امریکا سے بھارت کے لیے روانہ

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 8:24 am

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکا سے بھارت کے لیے روانیہ ہوگئے ہیں جس کا اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کاکروچ جناتا پارٹی کے سربراہ نے لکھا کہ اپنا اعتماد آئین کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ اس سے قبل سی جے پی نے جمعرات کے روز اپنے حامیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے بانی کی آمد کے موقع پر جمع نہ ہوں۔ یہ ہدایت اس ابتدائی اپیل کے بعد سامنے آئی تھی جس میں بوسٹن سے تعلیم یافتہ دیپکے نے اپنے حامیوں کو 6 جون کو ایئرپورٹ پر اکٹھا ہونے کی کال دی تھی، اسی روز دہلی کے جنتر منتر پر ایک احتجاج بھی طے تھا جس میں بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے نیٹ پیپر لیک تنازع کے باعث استعفے کا مطالبہ کیا جانا تھا۔ کاکروچ جناتا پارٹی نے اپنے حامیوں سے پرامن رہنے اور کسی بھی قسم کی بدنظمی سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کو قانونی اور پرامن رکھنا ضروری ہے تاکہ تحریک کو نقصان نہ پہنچے۔ ابھیجیت دیپکے نے بھی حامیوں کو تلقین کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاج کو پرامن اور قانونی رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور مخالفین موقع تلاش کر رہے ہیں کہ تحریک کو بدنام یا مسترد کیا جا سکے، اس لیے ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف 6 جون کے مجوزہ احتجاج کے لیے پولیس اجازت سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں مقرر ہونے والی سی جے پی کی ترجمان وجیتا داحیا نے کہا کہ اجازت کا معاملہ تنظیم کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق عوامی جذبات احتجاج کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اس وقت لوگ خاص طور پر ابھیجیت دیپکے سے منسلک ہیں، اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ خود 6 جون کو پولیس سے اجازت طلب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی پر امید ہے کہ حکام پرامن احتجاج کے لیے ضروری اجازت دے دیں گے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطاقب کاکروچ جناتا پارٹی نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ ابھیجیت دیپکے دہلی پہنچنے کے بعد خود پولیس سے اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست دیں گے۔ واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی حالیہ ہفتوں میں بھارت میں نوجوانوں کے ایک غیر معمولی احتجاجی رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کو ”کاکروچ“ کہے جانے کے ردعمل میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں یہ بے روزگاری، امتحانی نظام، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر احتجاجی مہم میں تبدیل ہوگئی۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں اور سوشل میڈیا پر انھیں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، جب کہ مبصرین انھیں بھارتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی اظہار کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔

بلاول بھٹو ننھے یوٹیوبر شیراز کے مداح نکل آئے، ملاقات کی ویڈیو وائرل

بلاول بھٹو ننھے یوٹیوبر شیراز کے مداح نکل آئے، ملاقات کی ویڈیو وائرل

by none@none.com (ویب ڈیسک) on June 5, 2026 at 7:59 am

سوشل میڈیا پر اپنی معصومیت، ٹوٹی پھوٹی اردو اور خوبصورت ویڈیوز سے لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے گلگت بلتستان کے ننھے یوٹیوبر شیراز اور ان کی پیاری بہن مسکان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک خصوصی اور دلچسپ ملاقات کی ہے۔ اس خوبصورت ملاقات کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور صارفین کی جانب سے اسے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ان دنوں اپنی سیاسی اور انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان کے دورے پر موجود ہیں۔ اپنی تمام تر سیاسی مصروفیات کے باوجود انہوں نے خطے کی پہچان بننے والے اس ننھے اسٹار سے ملنے کے لیے خاص وقت نکالا۔ ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان انتہائی دوستانہ گفتگو ہوئی جس نے سوشل میڈیا پر سب کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔ ملاقات کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں بلاول بھٹو کو شیراز سے انتہائی شفقت سے بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا سب سے بڑا فین ہوں اور آپ کی ویڈیوز باقاعدگی سے دیکھتا ہوں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی سے تعلق رکھتا ہوں لیکن وہاں بیٹھ کر بھی آپ کو فالو کرتا ہوں اور آپ سے مل کر مجھے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے محض شیراز کی شہرت ہی نہیں بلکہ ان کی جانب سے کی جانے والی فلاحی کاوشوں کو بھی بھرپور سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شیراز کی تمام سرگرمیاں سوشل میڈیا پر دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ اتنی کم عمری میں شیراز نہ صرف اپنی محنت سے نام کما رہے ہیں بلکہ اپنے پسماندہ علاقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی کام بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر شیراز کی جانب سے علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اسکول کی تعمیر جیسی کوششوں کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ شیراز نے اپنے وی لاگز کے ذریعے شمالی علاقہ جات کے مقامی مسائل اور خوبصورتی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شاندار انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اپنی اس دلچسپ گفتگو کے دوران بلاول بھٹو نے اپنے نانا اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے شیراز کو بتایا کہ ان کے نانا گلگت بلتستان کے عوام سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اس خطے کی ترقی کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ بلاول بھٹو نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے شیراز سے کہا کہ ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں۔

Iran says it fired warning missiles and drones at US warships in Gulf of Oman

Iran says it fired warning missiles and drones at US warships in Gulf of Oman

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 5:14 am

Earlier, the US Indo-Pacific Command said U.S. forces had intercepted the sanctioned stateless vessel M/T DAVINA in the Indian Ocean overnight

Pakistan rejects India’s remarks on Gilgit-Baltistan elections

Pakistan rejects India’s remarks on Gilgit-Baltistan elections

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 5:11 am

In a statement, the Foreign Office said India’s unfounded assertions regarding Gilgit-Baltistan cannot divert attention from the grave and systematic human rights violations being perpetrated by Indian occupation forces in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir

U-18 Hockey Asia Cup 2026: India beat Pakistan 5-3 in semifinal

U-18 Hockey Asia Cup 2026: India beat Pakistan 5-3 in semifinal

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 5:06 am

The final of the tournament will be played between India and Japan at the same venue tomorrow

Federal govt unveils scheme to bring small shop owners into tax net

Federal govt unveils scheme to bring small shop owners into tax net

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 5:02 am

Outlining details of the scheme, Bilal Azhar Kayani said that the scheme carries a fixed tax rate of one percent, while any withholding tax already deducted will be adjusted against it

Security forces kill six Indian sponsored terrorists in Panjgur: ISPR

Security forces kill six Indian sponsored terrorists in Panjgur: ISPR

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 4:58 am

According to ISPR, weapons, ammunition, improvised explosive devices, and a vehicle have also been recovered from the killed Indian sponsored terrorists, who remained actively involved in numerous terrorist activities in the area

Madonna stuns fans with New York pop-up concert

Madonna stuns fans with New York pop-up concert

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 4:53 am

Madonna, 67, strutted her stuff in a pink corset, blue bra, thigh-highs and blue shades Thursday night to promote her upcoming album “Confessions II” and kick off Pride Month

Here’s why Republicans just stood up to Trump

Here’s why Republicans just stood up to Trump

by Web Desk on June 5, 2026 at 2:01 am

Don’t look now, but it appears that Congress is actually doing its constitutionally prescribed job: checking presidential power. On Monday multiple outlets reported that President Donald Trump was backing off of his so-called anti-weaponization fund: the $1.7…

Americans don’t know how to fight AI. So they’re fighting data centers.

Americans don’t know how to fight AI. So they’re fighting data centers.

by Web Desk on June 5, 2026 at 2:01 am

On its surface, the national revolt against data centers seems simple: They are a nuisance, and people do not want them in their proverbial backyards. But I haven’t been able to let go of the idea that there must be something much deeper driving the backlash …

A new investigation reveals why you can’t take meat companies at their word

A new investigation reveals why you can’t take meat companies at their word

by Web Desk on June 5, 2026 at 2:00 am

In 2019, Erin Wing worked for nearly three months at a salmon hatchery in Maine that’s owned and operated by Cooke Aquaculture, the world’s largest privately held seafood company. As a hatchery technician, she helped to raise millions of delicate salmon eggs …

The Supreme Court’s new decision tilting the midterms toward Republicans, explained

The Supreme Court’s new decision tilting the midterms toward Republicans, explained

by Web Desk on June 5, 2026 at 2:00 am

Here’s a familiar story. On Tuesday night, the Supreme Court handed down a decision that will almost certainly give the Republican Party an additional seat in the US House of Representatives. Not all of the justices disclosed how they voted, but the decision …

How Trump is justifying new tariffs

How Trump is justifying new tariffs

by Web Desk on June 5, 2026 at 2:00 am

This story appeared in The Logoff, a daily newsletter that helps you stay informed about the Trump administration without letting political news take over your life. Subscribe here. Welcome to The Logoff: Donald Trump is still trying to implement his tariff a…

FIFA ditches EA for Netflix in latest video game release for 2026 World Cup

FIFA ditches EA for Netflix in latest video game release for 2026 World Cup

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 1:02 am

The title will be available exclusively to Netflix subscribers at no ​additional cost, as world soccer’s governing body looks ​to broaden fan engagement through its revamped digital strategy

India

India’s ‘Cockroach Party’ chief flies to New Delhi for protest

by Faisal Ali Ghumman on June 5, 2026 at 12:47 am

Abhijeet Dipke, the 30-year-old Boston University graduate behind the online movement, said he was flying back from the United States to seek police permission for a peaceful protest on Saturday against the education minister

Ukrainian President

Ukrainian President’s open letter to Russian President, renews bid to end war

by Ehsanullah on June 4, 2026 at 11:49 pm

Russia recently took control of 2,440 square kilometers of Ukrainian territory, while Russian forces continue to advance in Ukraine:Putin

Is Trump giving up on his slush fund?

Is Trump giving up on his slush fund?

by Web Desk on June 4, 2026 at 11:00 pm

This story appeared in The Logoff, a daily newsletter that helps you stay informed about the Trump administration without letting political news take over your life. Subscribe here. Welcome to The Logoff: Donald Trump’s $1.8 billion slush fund is — maybe — do…

To make friends, join a club. To join a club, find an activity fair.

To make friends, join a club. To join a club, find an activity fair.

by Web Desk on June 4, 2026 at 11:00 pm

Caitlin Squier-Roper, 45, recently discovered an intriguing club on Instagram: Philly Cooks a Book, a monthly meetup where locals prepare and share an assigned recipe from a specified cookbook. She could’ve enrolled through the group’s social media and shown …

Panjgur: Security forces conduct successful operation, six Indian backed militants killed

Panjgur: Security forces conduct successful operation, six Indian backed militants killed

by Ehsanullah on June 4, 2026 at 9:47 pm

Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif commended the security forces for killing six Indian-backed terrorists in Panjgur, Balochistan.

Another jolt for nation as NEPRA hikes electricity price by Rs1.19 per unit

Another jolt for nation as NEPRA hikes electricity price by Rs1.19 per unit

by Faisal Ali Ghumman on June 4, 2026 at 8:46 pm

According to a NEPRA notification, electricity rates have been raised by Rs1.19 per unit for consumers across the country, including Karachi, under the April 2026 fuel price adjustment

Security forces kill four Khwarij in two separate engagements in KP: ISPR

Security forces kill four Khwarij in two separate engagements in KP: ISPR

by Faisal Ali Ghumman on June 4, 2026 at 8:36 pm

According to the ISPR, an intelligence based operation was conducted by security forces in Dera Ismail Khan District on the reported presence of Khwarij

Pakistan qualify for semi-finals of U-18 Men’s Asia Cup Hockey Tournament

Pakistan qualify for semi-finals of U-18 Men’s Asia Cup Hockey Tournament

by Faisal Ali Ghumman on June 4, 2026 at 8:28 pm

Muhammad Yahya was declared Player of the Match for his outstanding all-round performance

An error occurred while fetching the feed.