
مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام: امریکا نے ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کردیں
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 5:02 pm
امریکا نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں 5 ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور ساتھ ہی امریکی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی جانب سے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقوم پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی تہران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں ملوث 5 اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں اور انہیں کریک ڈاؤن میں براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔ امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکرٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی پابندیوں میں ایران کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے 18 افراد اور ادارے بھی شامل ہیں، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم فرنٹ کمپنیاں بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ مذکورہ افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شیڈوبینکنگ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی غیر ملکی منڈیوں میں فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں ملوث تھے۔ امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ امریکا کا ایران کے رہنماؤں کو واضح پیغام ہے کہ امریکی وزارت خزانہ جانتا ہے آپ ایرانی خاندانوں سے لوٹی گئی رقم گھبراہٹ میں دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں، یقین رکھیں ہم اس کا اور تمہارا بھی سراغ لگائیں گے لیکن اس کے لیے تھوڑا وقت ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو اب بھی وقت ہے کہ وہ تشدد بند کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ امریکی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ امریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔ واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں ہنگامے مہنگائی کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئے، جس میں اب تک 2,435 مظاہرین اور 153 حکومتی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عمران خان کو اقتدار میں لانے والے چاہیں گے یہ دوبارہ اقتدار میں آئے: خواجہ آصف
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 3:49 pm
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اقتدار میں لانے والے چاہیں گے یہ دوبارہ اقتدار میں آئے، وہ چاہتے ہیں کہ یہ مملکت خداداد ان کی تابع ہوجائے۔ جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے ایران کے موجودہ اور 2023 میں پاکستان کے حالات سے مماثلت کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی پرورش کرنے اور اس کو اقتدار میں لانے والے اور آج پاکستان کو گالیاں نکالنے والوں کو پناہ دینے والے سب چاہیں گے کہ یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں، وہ چاہیں گے کہ مملکت خداداد ان کی تابع ہو جائے اور دوبارہ ان کا پالتو برسراقتدار آئے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ یاد رکھیں 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ انہی مقاصد کے حصول کی کوشش تھی، فرق دیکھیں جب عمران خان کے دور حکومت میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو راتوں رات ان کے پائلٹ ابھی نندن کو ہم نے ہاتھ جوڑ کر واپس کیا۔ انہوں نے کہ مئی 2025 میں جب ہندوستان نے حملہ کیا تو پاکستان نے فتح کی تاریخ رقم کی، دنیا حیرت زدہ رہ گئی کہ یہ وہی پاکستان ہے جس نے کچھ سال قبل انڈین پائلٹ واپس کیا اور پارلیمنٹ کو یہ بتایا گیا کہ ہم ہندوستان سے جنگ کا رسک نہیں لے سکتے۔ خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ ہماری افواج نے اللہ کی مدد سے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، ہمارے شہیدوں نے وطن کو جاوداں کیا، الحمد اللہ۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ دشمن آج بھی تاک میں ہے اور جاگتے رہنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ باہربیٹھے نام نہاد پاکستانی، طالبان سے محبت بھرے مذاکرات کے حامی وطن عزیز کی ترقی اور امن کے دشمن ہیں، یہ پاکستان کو معاشی استحکام اور محفوظ مستقبل سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی، معاملہ کیا ہے؟
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 3:28 pm
اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کے بعد اتحادی اور مخالف سیاسی جماعتیں بھی وفاقی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق عدالت نے شہری انتظامیہ کو مزید درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو آئندہ سماعت تک وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم محمد نوید نامی شہری کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔ اس کیس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں قواعد و ضوابط کے خلاف بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے متعلقہ وزارت اور اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور کیس کی مزید سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ معاملہ کیا ہے؟ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ دسمبر 2025 کے آخر میں سامنے آیا تھا، جب شہر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر درخت کاٹے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اِن علاقوں میں شکرپڑیاں، لوک ورسا، نیشنل میوزیم کا احاطہ، اسلام آباد ایکسپریس وے (ایچ ایٹ) اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ اسلام آباد کے مختلف مقامات پر شہریوں نے اس معاملے پر کٹے ہوئے درختوں کے ساتھ کھڑے ہو کر احتجاج بھی کیا۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹرینڈ بھی بنا جس میں صارفین نے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ درختوں کی کٹائی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلقات میں بھی تناؤ دیکھنے میں آیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے درختوں کی کٹائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پارٹی اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں۔ سابق وزیرِ ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے درختوں کی کٹائی کو ’ماحولیاتی قتل عام‘ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ عالمی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ اس کے جواب میں وفاقی حکومت نے مؤقف اپنایا کہ یہ مہم اسلام آباد کے شہریوں کو ’پولن الرجی‘ سے بچانے کے لیے ہے اور اس کا فیصلہ ماہرین کی سفارشات پر کیا گیا ہے۔ سی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ درختوں کی کٹائی میں پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) کے درخت کاٹے گئے ہیں جو مضرِ صحت ہوتے ہیں۔ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عرفان خان نیازی نے کہا کہ ہر سال ہزاروں افراد پیپر ملبری درخت سے پھیلنے والی پولن الرجی سے سانس کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کٹائی کا پہلا فیز 2024 میں شروع ہوا تھا، جس میں 12 ہزار درخت کاٹے گئے اور چالیس ہزار ماحول دوست درخت لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہری انتظامیہ کاٹے گئے ایک درخت کے بدلے موسمِ بہار میں تین درخت لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ورلڈ وائیڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے سی ڈی اے کے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق کٹائی صرف الرجی پیدا کرنے والے درختوں تک محدود نہیں تھی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی اور پرانے درخت بھی کاٹے گئے ہیں۔ بعض اراکینِ پارلیمنٹ نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنگلی شہتوت کے علاوہ دیگر مقامی اور قدیم درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ اسلام آباد کی خوبصورتی اس کے درخت ہیں اور نئے آباد علاقوں میں پہلے ہی درختوں کی کمی ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے درختوں کی کٹائی کے بجائے پولن الرجی کو ٹارگٹڈ طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان الزامات کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں کہا کہ جنگلی شہتوت کے علاوہ کسی اور درخت کی کٹائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے گرین بیلٹ ختم کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کے جائزوں کو مدنظر رکھا گیا ہے البتہ کاٹے گئے 29 ہزار 115 درختوں کی جگہ آٹھ سے دس فٹ قد کے 40 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق درختوں کی کٹائی سے شہر کا گرین زون کم ہو رہا ہے جو ہوا کی صفائی اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے حکومت کو ایک دستاویز میں جنگلی شہتوت کے سائنسی بنیادوں پر خاتمے کی تجویز پیش کی ہے۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ پیپر ملبری کے نر اور مادہ درخت الگ ہوتے ہیں، اس لیے انتظامی حکمت عملی میں دونوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ان درختوں کی اندھا دھند کٹائی سے مقامی درخت بھی غیر ارادی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اچانک اور بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے زیرِ زمین نباتات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تمام اقدامات ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور شفاف نگرانی کے تحت کیے جانے چاہئیں۔

خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 13 دہشت گرد ہلاک
by none@none.com (نوید اکبر | ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 3:08 pm
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 13 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں، بنوں میں کی گئی پہلی کارروائی میں 8 جب کہ کرم میں دوسری کارروائی کے دوران 5 خوارج مارے گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 13 اور 14 جنوری 2026 کو خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے 2 الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 دہشت گرد مارے گئے۔ اسی طرح کرم میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انجام دیا، جس میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔ آئی آیس پی آر کے مطابق ہلاک خوارج کا تعلق بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تھا، فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد خوارج کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم پوری قوت سے جاری ہے اورملکی سلامتی کو لاحق ہر خطرے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں اور کرم میں 2 کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کارروائیوں میں 13 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔

ایران میں صورتِ حال معمول پر آنے لگی، تخریب کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 2:52 pm
ایران میں حالیہ بدامنی اور احتجاج کے بعد ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص دارالحکومت تہران میں صورتِ حال بتدریج قابو میں آتی دکھائی دے رہی ہے، جب کہ سیکیورٹی ادارے بدستور الرٹ ہیں اور امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دارالحکومت تہران میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں تہران کی سڑکوں پر تشدد کی سرگرمیوں میں واضح کمی آئی ہے۔ اب نہ تو جلاؤ گھیراؤ کے آثار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ شہر میں معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہو رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو عوامی احتجاج کو تشدد اور تخریب کاری کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران کے وزیرِ انصاف امین حسین رحیمی نے کہا ہے کہ 8 جنوری کے بعد ہونے والے غیر قانونی اجتماعات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے، جس کے بعد ریاستی اداروں نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف قانونی تقاضوں کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ اے پی کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس امر پر بھی توجہ دے رہے ہیں کہ غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک مواد کی ترسیل کو روکا جائے، تاکہ غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔ واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ برس دسمبرکے آخری ہفتے میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا، احتجاج کی بنیادی وجہ شدید مہنگائی تھی، جس کے بعد تہران کے تاجروں نے سب سے پہلے مظاہرے شروع کیے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں اور کئی چیزیں مارکیٹ سے غائب ہو گئیں۔ ابتدا میں یہ مظاہرے محدود تھے جو بعد میں ملک گیر مظاہروں کی صورت اختیار کر گئے، جس کے باعث صورتِ حال کشیدہ ہو گئی تھی۔ حکومت نے ان پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں شہریوں کے لیے بیرونِ ملک کالز جزوی طور پر بحال کی گئیں۔ ایران کی فضائی حدود بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی کہ ملک کی فضائی حدود دوبارہ معمول کے مطابق فعال ہیں اور ہوائی اڈے مسافروں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے اور بات چیت کو بہتر راستہ سمجھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کو عندیہ دیا کہ انہیں اہم ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں ممکنہ پھانسیوں کے منصوبے روک دیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا فوجی کارروائی سے باز رہے گا یا نہیں۔ اس سے ایک دن قبل ٹرمپ نے حکومت مخالف ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ امریکا کی مدد آ رہی ہے اور واشنگٹن مناسب اقدام کرے گا۔ تاہم ایران کے دارالحکومت تہران میں ممکنہ آئندہ صورت حال پر غیر یقینی کے باعث سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر بھر میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی نمایاں موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران کے ایک رہائشی نے الجزیرہ کو بتایا کہ دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شہری نے الجزیرہ کو بتایا کہ شہر میں جگہ جگہ چیک پوسٹس، پولیس ناکے اور گاڑیوں کی تلاشی جاری ہے، جب کہ اسلامی انقلابی گارڈز کی موجودگی بھی نمایاں ہے۔ ان کے مطابق مسلح اہلکار موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر گشت کر رہے ہیں اور سڑکوں پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات میں ایران میں سیکیورٹی اقدامات تو برقرار ہیں، تاہم تشدد میں کمی، ریاستی کنٹرول میں اضافہ اور سفارتی بیانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ صورت حال بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی معاشی شکایات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جب کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔

یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی تعیناتی شروع کردی
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 2:30 pm
امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطح سہ فریقی اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا، جس کے بعد یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی نفری کی تعیناتی شروع کردی ہے، جہاں ڈنمارک اور اس کے اتحادی فوجی مشقوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں چھوٹے پیمانے پر فوجی اہلکار بھیجنا شروع کردیے ہیں۔ یہ اقدام ڈنمارک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سیکیورٹی یقین دہانی کے طور پر کیا جارہا ہے، ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے پر زور دے رہے ہیں۔ بدھ کو امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطح سہ فریقی اجلاس بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہوا تاہم اس دوران کسی قسم کی سفارتی کشیدگی سامنے نہیں آئی۔ ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش بدستور موجود ہے اور یہ ایک سنجیدہ اختلاف ہے، جسے روکنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم اور معدنی وسائل سے مالا مال گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور روس یا چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکا کو اس کا کنٹرول حاصل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔ تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کا مؤقف ہے کہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں اور سیکیورٹی معاملات اتحادیوں کے درمیان حل ہونے چاہئیں۔ روس نے نیٹو کی جانب سے چین اور روس کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دینے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھنے سے خبردار کیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق آرکٹک میں روسی مفادات کو نظرانداز کرنے کا کوئی بھی اقدام جواب کے بغیر نہیں رہے گا۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے تصدیق کی ہے کہ نیٹو اتحادیوں کے تعاون سے جزیرے اور اس کے اطراف میں فوجی موجودگی بڑھائی جا رہی ہے۔ جرمنی، فرانس، سویڈن، ناروے اور نیدرلینڈز نے بتایا ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں بڑی فوجی مشقوں کی تیاری کے لیے اہلکار بھیج رہے ہیں۔ ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کے مطابق آنے والے ہفتوں میں یورپی اور آرکٹک اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آرکٹک خطے میں فوجی موجودگی اور مشقوں کو عملی طور پر کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ کے مطابق اس وقت گرین لینڈ میں تقریباً 200 امریکی فوجی موجود ہیں جب کہ یورپی تعیناتی ابتدائی مرحلے میں محدود دکھائی دیتی ہے۔ جرمنی نے 13 رکنی ٹیم، سویڈن نے تین، ناروے نے دو جب کہ فرانس نے تقریباً 15 فوجی ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز نے بھی ایک ایک افسر کی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔ گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ نہ تو امریکا کے زیرِ انتظام آنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کی ملکیت بننا چاہتا ہے اور وہ ڈنمارک اور نیٹو اتحاد کا حصہ رہے گا۔

کھلاڑیوں کا احتجاج: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر عہدے سے فارغ
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 1:17 pm
بنگلادیش میں کھلاڑیوں کے شدید احتجاج اور بنگلادیش پریمیئر لیگ کے بائیکاٹ کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ڈائریکٹر نظم الاسلام کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جن پر کھلاڑیوں سے متعلق غیر مناسب بیان دینے کا الزام تھا۔ ذرائع کے مطابق بنگلادیشی کھلاڑیوں کے احتجاج نے بالآخر اثر دکھا دیا اور کرکٹ بورڈ نے ڈائریکٹر نظم الاسلام کو ان کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نظم الاسلام کے کھلاڑیوں سے متعلق بیان کو غیر مناسب قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ نظم الاسلام کے بیان کے خلاف بنگلادیشی کھلاڑیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ کھلاڑیوں کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے بیانات ناقابل قبول ہیں اور ان سے کرکٹ کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ بنگلادیش کی پلئرز ایسوسی ایشن نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مطالبات پورے ہونے تک کرکٹ نہ کھیلنے کی دھمکی دی تھی۔ کھلاڑیوں کے اجتماعی احتجاج کے باعث بی پی ایل کے میچز متاثر ہوئے، جس کے بعد کرکٹ بورڈ کو فوری اقدام کرنا پڑا۔ کرکٹ بورڈ کی جانب سے نظم الاسلام کی برطرفی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کھلاڑی اپنا احتجاج ختم کر دیں گے اور بی پی ایل کے معاملات معمول پر آ جائیں گے۔ معاملہ کیا ہے؟ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے فنانس کمیٹی کے سربراہ نظم السلام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ورلڈکپ میں بورڈ کو کچھ نہیں ملتا، اس لیے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ولڈکپ میں شرکت نہ کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں البتہ کھلاڑیوں کو نقصان ہوگا کہ انہیں میچ فیس کی مد میں رقم نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے پر کھلاڑیوں کا مالی ازالہ نہیں کریں گے، خراب پرفارمنس کے باوجود کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکہ خرچ کرتے ہیں، ہم نے کبھی کھلاڑیوں کو نہیں کہا کہ پیسے واپس کر دو، جب بورڈ نہیں ہوگا توکھلاڑی کیسے رہیں گے؟

ویزا سے متعلق امریکی حکام سے رابطے میں ہیں، پروسیسنگ جلد بحال ہونے کی امید ہے: دفتر خارجہ
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 12:53 pm
دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی امیگرنٹ ویزا کی معطلی پاکستانی شہریوں کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے اور حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکی امیگریشن پالیسیوں کا یہ جائزہ ایک اندرونی اور روٹین کا عمل ہے، تاہم اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کی سہولت اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی حکام سے رابطے جاری رکھے جا رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے یقین دلایا کہ حکومت تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ امریکی امیگرنٹ ویزا سے متعلق پاکستانی شہریوں کی پریشانیوں کا بروقت حل نکالا جا سکے اور ویزا پروسیسنگ کے معمولات جلد سے جلد بحال ہوں۔ امریکا نے بدھ کو پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی جانب سے دی گئی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ ان ویزوں کے ذریعے افراد امریکا میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے، تاہم اس فیصلے کے تحت اب نئی درخواستوں پر کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور حالیہ برسوں میں امیگریشن کے حوالے سے امریکا کا یہ سب سے سخت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نئی پابندی کا اطلاق سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزوں پر نہیں ہو گا، یعنی ان ویزوں کے لیے درخواست دینے والے افراد اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ تاہم جو لوگ مستقل رہائش، گرین کارڈ، شہریت یا پناہ کے لیے امیگرنٹ ویزا کے منتظر تھے، انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دیں۔ تاہم محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پہلے ہی امیگرنٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے، انہیں منسوخ نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح متاثرہ ممالک کے شہری نئی امیگرنٹ ویزا درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں اور انٹرویوز بھی دے سکتے ہیں، لیکن جب تک یہ پابندی برقرار رہے گی، انہیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر کوئی فرد کسی ایسے ملک میں رہتا ہے جو پابندی کی فہرست میں شامل ہے، لیکن اس کے پاس کسی دوسرے ایسے ملک کی شہریت اور پاسپورٹ موجود ہے جو اس فہرست میں شامل نہیں، تو اس شخص پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔ اس وضاحت سے دوہری شہریت رکھنے والے بعض افراد کو جزوی ریلیف مل سکتا ہے۔ پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک میں جنوبی ایشیا کے کئی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ایشیا اور پیسیفک خطے سے جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، فیجی، جارجیا، قزاقستان، کرغزستان، لاؤس، منگولیا، میانمار، نیپال، تھائی لینڈ اور ازبکستان شامل ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، شام اور یمن کے شہریوں کو اس پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپ کے بعض ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن میں البانیہ، روس، بیلاروس، بوسنیا، کوسووو، مالدووا، مونٹی نیگرو اور مقدونیہ شامل ہیں۔ کریبیئن اور وسطی امریکا کے کئی ممالک بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں انٹیگوا اور باربیوڈا، بہاماس، بارباڈوس، بلیز، کیوبا، ڈومینیکا، گرینیڈا، گوئٹے مالا، ہیٹی، جمیکا، نکاراگوا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز اور سینٹ لوسیا شامل ہیں۔ جنوبی امریکا سے برازیل، کولمبیا اور یوراگوائے کو بھی پابندی کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ افریقی ممالک اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں 25 سے زائد ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں الجزائر، کیمرون، کیپ وردے، کوٹ ڈی آئیور، جمہوریہ کانگو، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، گھانا، گنی، لائیبیریا، لیبیا، مراکش، نائیجیریا، کانگو، روانڈا، سینیگال، سیرالیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، تنزانیہ، گیمبیا، ٹوگو، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نومبر 2025 میں امریکا پہلے ہی 19 ممالک کے تارکین وطن پر پناہ، شہریت اور گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے پر پابندی عائد کر چکا تھا، اور اب ان ہی ممالک کو نئی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے جو برسوں سے امریکا میں مستقل رہائش کے منتظر تھے، جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کے جامع جائزے کا حصہ ہے۔

امریکا کی امیگرنٹ ویزوں پر پابندی سے کون متاثر ہوگا؟
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 12:49 pm
امریکا نے پاکستان، روس، ایران اور افغانستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ (مستقل) ویزوں کا اجراء غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے متوسط طبقے کے علاوہ امیر افراد اور اشرافیہ پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بدھ کے رورز 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روکنے کا اعلان کیا ہے اور قونصل خانوں کو متاثرہ ممالک سے آنے والی امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام نومبر میں جاری کیے گئے اس حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے جس میں ممکنہ طور پر ’پبلک چارج‘ بننے والے ممکنہ تارکین وطن کے لیے قواعد مزید سخت کردیے گئے تھے۔ ’پبلک چارج‘ (عوامی بوجھ) دراصل امریکی امیگریشن قانون کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو حکومتی امداد پر انحصار کرتا ہو۔ دوسرے ممالک کے وہ شہری جو قانونی طور پر امریکا میں مستقل رہائش حاصل کر چکے ہوں، مختلف سہولیات اور فوائد کے حقدار ہوتے ہیں۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ دیگر ممالک سے آنے والے زیادہ تر لوگ اپنا خرچہ خود اٹھانے کے بجائے امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ صرف وہی افراد امریکا آئیں جو اتنے مالدار یا ہنرمند ہوں کہ امریکا آنے کے بعد فوائد سمیٹنے کے بجائے معیشت کو فائدہ دیں۔ جن ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، روس، افغانستان، برازیل، ایران، عراق، مصر، صومالیہ، نائجیریا، تھائی لینڈ، یمن سمیت مجموعی طور پر 75 ممالک شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں کویت بھی شامل ہے جو ایک خوشحال ملک تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور حالیہ دنوں میں ویزا پابندیوں کے حوالے سے امریکا کے سخت اقدامات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگا، جن کے ذریعے غیر ملکی شہری مستقل رہائش یا گرین کارڈ کے حصول کے لیے امریکا کا رخ کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی شق 212(4 اے) کے تحت ایسے افراد کو امریکا میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے جو مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہوں۔ امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارت خانوں کو نان امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں کی بھی جانچ پڑتال کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا وہ امریکا میں سرکاری سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کا ردعمل دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی امیگرنٹ ویزا کی معطلی پاکستانی شہریوں کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے اور حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ امید ہے کہ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس پابندی کا اطلاق کن طبقات پر ہوگا۔ کون سے طبقات متاثر ہوں گے؟ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کو دراصل ’سلسلہ وار امیگریشن‘ (چین امیگریشن) کو روکنے کی ایک کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ جس سے امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے خواہش مند افراد متاثر ہوں گے۔ اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقہ اس پابندی کا سب سے زیادہ اثر اس طبقے پر پڑے گا جن کے پاس مالی وسائل موجود ہیں۔ وہ امراء جو لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر کے امریکہ منتقل ہونا چاہتے تھے، ان کے لیے بھی پراسیسنگ سست یا بند کر دی گئی ہے۔ اشرافیہ کے وہ افراد جو اپنے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں سے تعلیم دلوانے کے بعد وہاں مستقل رہائش دلوانے چاہتے تھے، ان کے لیے فی الحال قانونی رکاوٹ آڑے آگئی ہے۔ عام متوسط طبقہ امریکی شہریوں یا گرین کارڈ ہولڈرز کے وہ رشتہ دار جو اسپانسر شپ کے ذریعے امریکہ آنا چاہتے ہیں، یہ طبقہ بھی اس پابندی سے شدید متاثر ہوگا۔ وہ لوگ جو سالوں سے اپنے بھائی بہنوں، والدین یا بچوں کے امیگرنٹ ویزوں کا انتظار کر رہے تھے، ان کی درخواستیں اب غیر معینہ مدت کے لیے رک گئی ہیں۔اور انہیں پالیسی واضح نہ ہونے تک مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ ہنرمند طبقہ ایسے ہنر مند افراد، ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین جو پاکستانی یا اس فہرست میں شامل دیگر ممالک سے براہِ راست امیگرنٹ ویزا پر امریکہ جانا چاہتے تھے ان کے لیے فی الحال یہ راستہ بند تصور ہوگا۔ برین ڈرین کا شکار طبقہ ایسے افراد جو اپنے ممالک میں طرزِ زندگی اور حالات سے ناخوش ہو کر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ طبقہ بھی اس پابندی کی زد میں آئے گا اور اب امریکہ کے بجائے کینیڈا، آسٹریلیا یا یورپی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہوگا۔ پابندی سے مستثنیٰ طبقات یہ پابندیاں صرف امیگرنٹ‘ (مستقل) ویزوں پر لگائی گئی ہیں۔ نان امیگرنٹ ویزے جن میں سیاحتی، تعلیمی اور ورک ویزے شامل ہیں، ان کا اجرا جاری رہے گا۔ تاہم ان کی جانچ پڑتال مزید سخت کی جا سکتی ہے۔ سیاح اور کاروباری مقاصد کے لیے امریکا جانے والے افراد، طلبہ، کھیلوں کے مقابلوں کے لیے جانے والے کھلاڑی اور شائقین اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں اور وہ امریکا کا سفر کرسکتے ہیں۔ محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد دوہری شہریت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایسے ملک کا پاسپورٹ موجود ہے جو پابندی کی فہرست میں شامل نہیں، تو اس پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرنٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے اسے منسوخ نہیں کیا جا رہا، متاثرہ ممالک کے شہری امیگرنٹ ویزا کی نئی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں لیکن جب تک یہ عمل معطل ہے، اس وقت تک انہیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

بگ بیش لیگ میں نیا قانون متعارف کرانے کا اعلان
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 12:27 pm
آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) نے کھیل میں حکمتِ عملی اور دلچسپی بڑھانے کے لیے ایک نیا اور منفرد قانون متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ٹیموں کو ڈیزگنیٹڈ بیٹر اور ڈیزگنیٹڈ فیلڈر نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ بگ بیش لیگ کے سربراہ الیسٹر ڈابسن کے مطابق یہ نیا قانون آئندہ سیزن سے نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت ہر ٹیم اپنی پلیئنگ الیون میں سے ایک کھلاڑی کو ڈیزگنیٹڈ بیٹر کے طور پر نامزد کر سکے گی۔ نئے قانون کے مطابق ڈیزگنیٹڈ بیٹر کو عملی طور پر پلیئنگ الیون سے باہر رکھا جائے گا اور اس کی جگہ ایک ڈیزگنیٹڈ فیلڈر شامل کیا جائے گا۔ ڈیزگنیٹڈ فیلڈر بیٹنگ یا بولنگ نہیں کر سکے گا تاہم وہ وکٹ کیپر کی ذمہ داری انجام دے سکتا ہے۔ بی بی ایل حکام کے مطابق ٹیموں پر اس قانون کا اطلاق لازمی نہیں ہوگا اور وہ چاہیں تو اپنی منتخب الیون کے ساتھ ہی میدان میں اتر سکتی ہیں۔اس آپشن کے ذریعے کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے گا اور تجربہ کار پاور ہٹرز کے کیریئر کو طول دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ الیسٹر ڈابسن کا مزید کہنا تھا کہ بگ بیش لیگ کھیل کے بنیادی ڈھانچے میں زیادہ تبدیلی سے گریز کرتی ہے تاہم اس قانون سے حکمتِ عملی اور تفریح میں اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق بگ بیش لیگ جدت اور ارتقا کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی اور یہ نیا قانون شائقین کے لیے کھیل کو مزید دلچسپ بنائے گا۔ بی بی ایل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ نیا قانون ویمنز بگ بیش لیگ (ڈبلیو بی بی ایل) میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔

پاک آسٹریلیا ٹی 20 سیریز: سب سے سستا اور مہنگا ٹکٹ کتنے کا ہے؟
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 12:11 pm
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے ٹکٹس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹی20 انٹرنیشنل سیریز کے ٹکٹوں کی فروخت اور دستیابی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ٹکٹوں کی آن لائن فروخت جمعہ 16 جنوری سے شروع ہو گی، آن لائن ٹکٹس pcb.tcs.com.pk پر حاصل کیے جاسکیں گے جب کہ فیزیکل ٹکٹیں 19 جنوری بروز پیر سے ملک بھر کے ٹی سی ایس ایکسپریس سینٹرز پر دستیاب ہوں گی۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 29 جنوری، دوسرا میچ 31 جنوری اور تیسرا میچ یکم فروری کو کھیلا جائے گا جب کہ تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز قذافی سٹیڈیم لاہور میں شام 6 بجے شروع ہوں گے، جس کے لیے آسٹریلوی ٹیم 28 جنوری کو لاہور پہنچے گی۔ پی سی بی کے جاری اعلامیہ کے مطابق ٹکٹ کی کم سے کم قیمت 400 جب کہ زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ پہلے اور اگلے دو میچز میں ایک ہی کٹیگری کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، 29 جنوری کو کھیلے جانے والے پہلے میچ کے ٹکٹوں کی قیمت بقیہ 2 میچوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رکھی گئی ہے، اس روز کے وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت 800 روپے، پریمیئم 600، فرسٹ کلاس 500، جنرل 400، وی آئی پی فار اینڈ 1500 روپے رکھی گئی ہیں جب کہ اسی روز قذافی اسٹیڈیم وی آئی پی نیو پویلین کا ٹکٹ 2000 جب کہ ہوسپٹالٹی گیلری کا ٹکٹ 5000 روپے میں دستیاب ہوگا۔ پی سی بی کے مطابق 31 جنوری اور یکم فروری کے میچز کے لیے وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت 1000، پریمیئم 700، فرسٹ کلاس 600، جنرل 500، وی آئی پی فار اینڈ 2000، وی آئی پی نیو پویلین 2500 جب کہ ہوسپٹالٹی گیلری کے ٹکٹ کی قیمت 6000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے شائقین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جلد ٹکٹیں خرید لیں کیوں کہ میچز شائقین کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں، خصوصاً ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے یہ اہم مشقیں ہیں، مفت داخلہ یا خصوصی رعایت اس سیریز میں نہیں ہے البتہ مختلف انکلوژرز کی قیمتیں شائقین کے لیے نسبتاً مناسب رکھی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس ہائی وولٹیج مقابلے کا حصہ بنایا جا سکے۔

اقرارالحسن اپنی سیاسی جماعت کا نام اور جھنڈا سامنے لے آئے
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 12:07 pm
معروف اینکر اور ’سرِعام فلاحی گروپ‘ کے سربراہ سید اقرار الحسن نے ایک نئی یوتھ سینٹرڈ عوامی تحریک اور سیاسی جماعت ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور پریس کلب میں اس حوالے سے جمعرات کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں اقرار الحسن نے کہا کہ ان کی جماعت کا بنیادی مقصد پاکستان کے سیاسی نظام میں حقیقی اور عملی تبدیلی لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں برسوں سے رائج خاندانی اور روایتی سیاست نے نظام کو کمزور کیا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو افراد کے بجائے مضبوط اداروں اور شفاف جمہوری عمل سے جوڑا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام راج پارٹی کسی ایک فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہو گی بلکہ اس کے اصل مالک پاکستان کے عام شہری ہوں گے۔ اقرار الحسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں کبھی کوئی سیاسی، سرکاری یا حکومتی عہدہ نہیں لوں گا۔ نہ ہی میں کسی عہدے کی توقع رکھوں گا اور نہ ہی کسی کے اصرار پر اسے قبول کروں گا۔ کیونکہ مجھے فکری کام کرنا ہے۔ انھوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم نے فوجی راج دیکھا، بھٹو راج، خان راج اور گورنر راج دیکھا، لیکن اب اس ملک میں ”عوام راج“ ہو گا۔‘ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ایک جمہوری جماعت کے قیام کی تحریک کو ہم ”پاکستان عوام راج تحریک“ کا نام دے رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ اس تحریک کو پاکستان کے حق میں بہتر کرے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے نعرہ لکھا: ’اب راج کرے گی خلقِ خدا‘۔ قبل ازیں، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کو بااختیار بنانا ہے۔ اقرار الحسن نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سیاسی جماعتیں دکان نہیں ہوتیں جنہیں کوئی شخص اپنی زندگی بھر چلاتا رہے، بلکہ یہ ادارے ہوتے ہیں جو عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور مغربی جمہوری نظام کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں سیاست چند ہی ناموں کے گرد گھومتی رہی، جب کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت باقاعدہ جمہوری عمل کے ذریعے بدلتی رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں میرٹ کی بنیاد پر نئے لوگ آگے آتے ہیں اور پرانے رہنما اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثی انداز میں چلائی جا رہی ہیں۔ اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست میں آنے کا واحد مقصد عوام کو اصل اختیار دینا اور اس نظام کو چیلنج کرنا ہے جسے وہ بظاہر جمہوریت لیکن عملی طور پر ایک بڑی آمریت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک افراد کے بجائے پورے نظام کے خلاف اجتماعی جدوجہد نہیں کی جائے گی، عوام کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔ یاد رہے کہ اقرار الحسن نے دسمبر میں نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ نئی جماعت کو 15 جنوری 2026 کو باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات کے لیے بھرپور تیاری کی جائے گی۔

جاوید شیخ بشریٰ انصاری کے بیان پر برہم
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 11:12 am
سینئر پاکستانی اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر جاوید شیخ نے بشریٰ انصاری کے ایک طنزیہ جملے پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔ بشریٰ انصاری اور جاوید شیخ کا شمار پاکستان کے اُن سینئر فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں ایک ساتھ شوبز میں قدم رکھا۔ دونوں نے پی ٹی وی کے سنہری دور میں کئی ڈراموں، مزاحیہ شوز اور تقریبات میں ایک ساتھ کام کیا، جس کے باعث دونوں میں دوستی اور بے تکلفی بھی تھی۔ اس دور میں فنکاروں کے درمیان تعلقات زیادہ گھریلو ہوتے تھے اور بشریٰ انصاری اپنی بے ساختہ گفتگو جبکہ جاوید شیخ اپنے کھلے مزاج کے باعث ایک دوسرے سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ حال ہی میں ایک تقریب کے دوران بشریٰ انصاری نے مذاق کے انداز میں جاوید شیخ کی ذاتی زندگی کا ذکر کیا، جس پر جاوید شیخ کو دکھ ہوا اور انہوں نے کھل کر اپنا ردِعمل دیا۔ ایونٹ کے دوران گفتگو میں بشریٰ انصاری نے جاوید شیخ کی ذاتی زندگی، خاص طور پر ان کی شادی اور طلاق سے متعلق ایک بات کو مزاح کے انداز میں چھیڑا جوجاوید شیخ کو ناگوار گزری۔ اس تقریب میں بہروز سبزواری، روبینہ اشرف، بشریٰ انصاری اور شبیر جان سمیت دیگر معروف فنکار بھی موجود تھے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں بشریٰ انصاری یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ انہوں نے جاوید شیخ کے گھر کو اپنے سامنے بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور ٹوٹتے ہوئے بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا گھر ان کی وجہ سے نہیں ٹوٹا۔ اس پر جاوید شیخ نے واضح اور سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹوٹی ہوئی شادی یا گھر کسی کے لیے مذاق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی بشریٰ انصاری کی ذاتی زندگی یا ناکام شادی پر بات نہیں کی، اس لیے کسی اور کی ذاتی زندگی پر طنز کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی کہانی سنائی جائے تو اپنی کہانی کا ذکر بھی ساتھ ہونا چاہیے۔ @iamraheelbaig Bushra answer & javeed sheikh face to face ♬ original sound – iamraheelbaig یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے جاوید شیخ کے مؤقف کی حمایت کی۔ کئی مداحوں نے بشریٰ انصاری کے اندازِ گفتگو کوناپسند کرتے ہوئے اسے غیر موزوں قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ نجی معاملات کا عوامی فورمز پر مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ دوسری جانب صارفین جاوید شیخ کے ردِعمل کو درست کہہ رہے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری
by none@none.com (افضل جاوید) on January 15, 2026 at 10:58 am
چیف جسٹس کی زیرِ صدرات جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی۔ جسٹس حسن نواز، جسٹس ملک وقار حیدر کی مستقلی کی منظوری دی گئی ہے جبکہ جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کی مستقلی کی منظوری ذرائع کے مطابق جسٹس ملک جاوید اقبال، جسٹس محمد جواد ظفر اور جسٹس خالد اسحاق کی بھی منظوری دی گئی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج راجہ غضنفر علی خان کو مستقل کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے جبکہ 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں توسیع دینے کی منظوری دی گئی تھی جبکہ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

سونے کی قیمت ہزاروں روپے نیچے آگئی
by none@none.com (سید صفدر عباس) on January 15, 2026 at 10:23 am
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جمعرات کے روز مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط کے فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 700 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 82 ہزار 462 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 172 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد فی دس گرام سونا 4 لاکھ 13 ہزار 633 روپے پر آ گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہونے کے بعد اس کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے، جہاں سونے کی قیمت میں واضح کمی ہوئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 37 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونے کی قیمت چار ہزار 601 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں اس کمی کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔

سندھ حکومت کی کار کردگی، آئندہ کےلائحہ عمل پر بلاول کی بریفنگ
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 10:18 am
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور بحالی کے شعبوں میں مؤثر اور نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی پیپلزپارٹی نے درپیش چیلنجز کے باوجود بہترین حکمت عملی کے تحت صوبے میں نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ اسلام آباد میں سندھ حکومت کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کر رہی ہے اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی بھاری عوامی اکثریت سے اقتدار میں آئی اور حکومت سنبھالتے ہی کئی بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، جن سے مؤثر حکمت عملی کے تحت نمٹا گیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی اور نظام صحت کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ نے پہلی بار علاج کے لیے سائبر نائف ٹیکنالوجی متعارف کرائی، جبکہ جناح اسپتال کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبے میں عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں عوام کو مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور کینسر جیسے مہنگے ترین علاج بھی بلا معاوضہ کیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی طرز کے سندھ بھر میں گیارہ اسپتال قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایک سال کے دوران 29 لاکھ سے زائد مریضوں نے علاج کی سہولت حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی میں امراض قلب کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں اندرون سندھ کے مریضوں کو علاج کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔ تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ میں تعلیمی بہتری کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں تیس جامعات کام کر رہی ہیں، جبکہ 2008 میں یہ تعداد صرف دس تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں گمبٹ میڈیکل کالج قائم کیا گیا اور ایک لاکھ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی عمل میں لائی گئی۔ بلاول بھٹو نے 2022 کے تاریخی سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نے ایک بڑے قدرتی سانحے کا سامنا کیا، جس میں ہزاروں اسکول متاثر ہوئے اور اکیس لاکھ گھر تباہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد سندھ میں سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا گیا اور متاثرین کے لیے اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ ان کے مطابق اس مشکل وقت میں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں تخفیف غربت پروگرام شروع کیا گیا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وفاقی سطح پر ایک بڑا سماجی تحفظ کا نظام ہے، جس پر پیپلزپارٹی کو فخر ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ گمبٹ اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی بڑی تعداد دوسرے صوبوں سے آتی ہے، جو سندھ میں صحت کی سہولتوں پر عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ تقریب سے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ حکومت ہر شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور عوامی خدمت کا یہ سفر آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔

یوٹیوبر نے کوکا کولا بنانے کا 140 سال پرانا راز دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 10:15 am
کوکا کولا دنیا بھر میں مشہور ترین مشروب ہے۔ گرمی کے موسم میں یا خوشی کے موقع پر لوگ اسے تازگی اور لطف کے لیے پیتے ہیں۔ اس کی مقبولیت نہ صرف ذائقے کی وجہ سے بلکہ اس کے منفرد انداز اور پہچان کی وجہ سے بھی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا نسخہ صدیوں سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہی خفیہ ترکیب اسے عام سافٹ ڈرنکس سے ممتاز کرتی ہے اور اسے دنیا بھر میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہے۔ کوکا کولا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ہر روز دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں اس کے تقریباً 2.2 ارب گلاس پیے جاتے ہیں۔ اس عالمی کامیابی کے پیچھے ایک ایسا فارمولا ہے جسے 140 برس سے سخت راز میں رکھا گیا ہے۔ اس مشروب کے اجزا کی فہرست پر نظر ڈالیں تو اس میں چینی، کیفین، سوڈیم اور قدرتی ذائقے درج ہوتے ہیں، مگر یہی قدرتی ذائقے اصل راز سمجھے جاتے ہیں۔ برسوں سے لوگ اس ذائقے کو نقل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن اب ایک یوٹیوبر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس راز کے کافی قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ دعویٰ لیب کوٹس نامی یوٹیوب چینل کے بانی نے کیا ہے، جو سائنس اور انجینئرنگ پر مبنی ویڈیوز بناتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے تقریباً ایک سال تک تحقیق کی، مختلف اجزا پر تجربات کیے اور کئی بار آزمائش کے بعد ایسا مشروب تیار کیا جو ذائقے میں کوکا کولا سے بہت ملتا جلتا ہے۔ کوکا کولا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسے 1886 میں ڈاکٹر جان ایس پیمبرٹن نے ایجاد کیا تھا۔ انہوں نے اس کا نسخہ صرف زبانی طور پر چند لوگوں کو بتایا۔ بعد ازاں 1892 میں آسا کینڈلر نے اس کاروبار کے حقوق حاصل کیے۔ 1919 میں ارنسٹ وُڈرف اور ان کے ساتھیوں نے کمپنی خریدی اور نسخہ لکھوا کر نیویارک کے ایک بینک کے لاکر میں محفوظ کر دیا۔ بعد میں یہ نسخہ اٹلانٹا منتقل ہوا اور کئی دہائیوں تک سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی لیے کمپنی نے کبھی اس فارمولے کا پیٹنٹ نہیں کروایا، کیونکہ ایسا کرنے سے راز ظاہر ہو جاتا۔ حال ہی میں یو ٹیوب لیب کوٹز کے بانی نے ”پرفیکٹلی ریپلیکیٹنگ کوکا کولا (اٹ ٹُک می اے اِئر)“ کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی، جسے چند ہی دنوں میں لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ کوکا کولا ایک بہت بڑا برانڈ ہے اور اس کا اصل فارمولا چند ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اصل نسخہ مکمل طور پر نقل کرنے کا دعویٰ نہیں کر رہے، بلکہ اصل ذائقے کے قریب پہنچنا ان کا مقصد تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لیٹر کوکا کولا میں تقریباً 110 گرام چینی، 96 ملی گرام کیفین، فاسفورک ایسڈ اور رنگ شامل ہوتا ہے، مگر اصل الجھن قدرتی ذائقوں کو سمجھنے میں تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دارچینی، نارنجی، لونگ اور کالی مرچ سمیت مختلف تیلوں پر تجربات کیے۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر موجود پرانے نسخوں کو بھی آزمایا، جن میں پیمبرٹن کا ابتدائی فارمولا بھی شامل تھا۔ بالآخر ان کے مطابق چائے اور مختلف مشروب میں پائے جانے والے ٹیننز نے انہیں اصل ذائقے کے قریب پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اجزا مٹھاس کو متوازن کرتے ہیں اور ذائقے میں ایک ہلکا سا کھنچاؤ پیدا کرتے ہیں، جو کوکا کولا کی خاص پہچان ہے۔ انہوں نے اپنے تیار کردہ مشروب کو ”لیب-کولا“ کا نام دیا اور دوستوں سمیت مختلف لوگوں کو چکھایا۔ ان کے بقول زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسے اصل کوکا کولا سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر اس وقت بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اگرچہ کوکا کولا کمپنی کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سائنس اور مسلسل تجربات کے ذریعے ڈیڑھ صدی پرانا راز سمجھا جا سکتا ہے؟ شاید اصل جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے، لیکن یہ کوشش اس بات کی یاد دہانی ضرور ہے کہ انسان کی جستجو اور تجسس کبھی ختم نہیں ہوتا۔

آفس کرسی پر مستقل بیٹھنا آپ کو کن کن بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 10:01 am
دورحاضر میں دفتر ہو یا گھر، زیادہ تر افراد گھنٹوں ایک ہی جگہ کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا عام ہوگیا ہے۔ مگر ماہرین صحت کے مطابق یہ معمولی سی عادت وقت کے ساتھ سنگین طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم جانا یا ورزش کرنا کافی نہیں، بلکہ دن بھر جسم کو حرکت میں رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ہڈیاں دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو آہستہ آہستہ مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنے سے ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے اور تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماہرین صحت ایک آسان اور عملی اصول تجویز کرتے ہیں جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ہر 30 منٹ بعد کرسی سے اٹھنا چاہیے۔ عام دفتری اوقات میں کم از کم 8 سے 10 مرتبہ کھڑے ہونا، چند قدم چلنا یا ہلکی اسٹریچنگ کرنا صحت کے لیے مفید ہے۔ صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریج کرنے سے نہ صرف خون کی روانی بہتر ہوتی ہے بلکہ پٹھوں کی اکڑن بھی کم ہو جاتی ہے اور کمر، کندھوں اور ٹانگوں کے درد میں واضح کمی آتی ہے۔ طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے، جس کے باعث وزن بڑھنا، کمر اور گھٹنوں میں درد، غلط جسمانی ساخت، بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی عادت دل کے امراض اور ذیابیطس کے خطرات کو بھی بڑھا دیتی ہے، اس لیے روزمرہ زندگی میں حرکت کو شامل کرنا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہر بار کرسی سے اٹھنے پر سخت ورزش کرنا ضروری نہیں۔ ہلکی اسٹریچنگ، چند قدم چلنا، پانی پینا یا واش روم جانا جیسی سادہ سرگرمیاں بھی جسم کو متحرک رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس سے جسم کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ آرام کی حالت سے نکل کر دوبارہ فعال ہو جائے، جو طویل مدتی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے وقفے لے کر بیٹھنے کی عادت اپنا لیں تو اس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وقفے وقفے سے اٹھنے اور ہلکی پھلکی حرکت کرنے سے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے، جس سے درد اور اکڑن میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس عادت سے جسم کا میٹابولزم متحرک رہتا ہے، جس کے باعث وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے، جو مجموعی طور پر دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ مسلسل بیٹھنے سے بچاؤ دل کے امراض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے اور انسان خود کو زیادہ توانا اور چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔ ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحت بڑی تبدیلیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتی ہے۔ دن میں بار بار اٹھ کر چلنا، جسم کو حرکت دینا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا ایک آسان مگر مؤثر طریقہ ہے، جو انسان کو صحت مند، چست اور توانائی سے بھرپور رکھ سکتا ہے۔

مایا خان لائیو شو میں رو پڑیں، وجہ کیا تھی؟
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 9:18 am
معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان مایا خان حال ہی میں ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، جب وہ اپنے قریبی اور مخلص دوستوں کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔ مایا خان نے نجی ٹی وی چینل کے ایک مارننگ شومیں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی میں دوستوں کی اہمیت پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران مایا خان نے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ ان کے اردگرد ایسے دوست موجود ہیں جو ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دوستی ان کے لیے اللہ کی ایک خاص نعمت ہے اور یہی سوچ انہیں بار بار جذباتی کر دیتی ہے۔ مایا خان نے کہا کہ انہیں یہ احساس بہت رُلا دیتا ہے کہ ان کے ارد گرد ایسے دوست ہیں، جوصرف ایک فون کال پر ان کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوستوں کا ہر وقت ساتھ ہونا ضروری نہیں، مگر مشکل وقت میں ان کا موجود ہونا سب سے بڑی دولت ہے۔ اداکارہ نے شو کے دوران اپنی جذباتی کیفیت پر ناظرین اور میزبان سے معذرت بھی کی اور کہا کہ وہ اپنے آنسوؤں سے سب کو جذباتی کرنا نہیں چاہتی تھیں، مگر دل کی بات زبان پر آتے ہی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ یاد رہے کہ مایا خان نے حالیہ برسوں میں ڈرامہ انڈسٹری میں کامیاب واپسی کی ہے۔ 2024 میں ڈرامہ ’مائی ری‘ کے ذریعے ان کی کم بیک کو بے حد سراہا گیا، جبکہ ’کبھی میں کبھی تم‘ اور’بڑے بھیّا‘ میں ان کی اداکاری نے بھی خوب داد سمیٹی۔ اس کے علاوہ وہ ایک کامیاب بزنس وومن اور رائٹر بھی ہیں اور جلد یوٹیوب پر ڈیجیٹل کنٹینٹ کے ذریعے اپنے مداحوں سے جڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

مسلمان طلبہ بڑھنے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیکل کالج بند کردیا
by none@none.com (ویب ڈیسک) on January 15, 2026 at 9:15 am
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں واقع ایک میڈیکل کالج بند کردیا۔ یہ فیصلہ نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے چھ جنوری کو سامنے آیا، جس کے بعد کالج کے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ کالج میں مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کے داخلے پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے احتجاج کو اس اقدام کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے پہاڑی ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا لائسنس نیشنل میڈیکل کمیشن نے منسوخ کر دیا۔ یہ ضلع ہمالیہ کی پیر پنجل رینج کے قریب واقع ہے، جو جموں کے میدانوں کو وادی کشمیر سے الگ کرتا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں پانچ سالہ بیچلر آف میڈیسن اینڈ سرجری (ایم بی بی ایس) پروگرام میں شامل ہونے والے 50 طلبہ میں سے 42 مسلمان تھے، جن میں زیادہ تر کشمیر کے رہائشی تھے، جبکہ سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم تھا۔ یہ کالج کا پہلا ایم بی بی ایس بیچ تھا، جسے ایک ہندو مذہبی خیراتی ادارے نے قائم کیا تھا اور جزوی طور پر حکومت نے فنڈ فراہم کیا تھا۔ بھارت میں میڈیکل کالجز میں داخلہ، چاہے وہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ، نیشنل انٹرنس ایگزامینیشن ٹیسٹ کے ذریعے ہوتا ہے، جو وفاقی وزارت تعلیم کی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی منعقد کرتی ہے۔ ہر سال دو ملین سے زائد طلبہ نیشنل انٹرنس ایگزامینیشن ٹیسٹ دیتے ہیں تاکہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ایم بی بی ایس نشستوں میں داخلہ حاصل کر سکیں۔ زیادہ تر طلبہ سرکاری کالجز کو ترجیح دیتے ہیں جہاں فیس کم مگر داخلے کے لیے کم از کم نمبر زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ طلبہ جو کم نمبر حاصل کر کے سرکاری کالج میں نہیں جا پاتے، وہ پرائیویٹ کالجز میں داخلہ لیتے ہیں۔ بارامولا، کشمیر کی رہائشی 18 سالہ طالب علم ثانیہ جان نے الجزیرہ کو بتایا کہ جب انہوں نے نیشنل انٹرنس ایگزامینیشن ٹیسٹ پاس کیا تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھی تھیں۔ یہ ان کے خواب کی تعبیر بھی تھی۔ کالج کے انتخاب کے دوران ثانیہ نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ان کے گھر سے تقریباً 316 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا، جو کشمیری طلبہ کے لیے نسبتاً قریبی کالج ہے، کیونکہ انہیں اکثر زیادہ فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ نومبر میں جب تعلیمی سیشن شروع ہوا، ثانیہ کے والد گزانفر احمد نے انہیں کالج چھوڑا۔ انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی بچپن سے ٹاپر رہی ہے۔ میری تین بیٹیاں ہیں اور یہ سب سے ذہین ہے۔ اس نے واقعی محنت کی تاکہ میڈیکل میں سیٹ حاصل ہو سکے۔ تاہم، چیزیں منصوبے کے مطابق نہیں گئیں اور کالج کی شناخت منسوخی کے اعلان نے طلبہ، والدین اور مقامی کمیونٹی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق جیسے ہی مقامی ہندو گروپوں کو کالج کے پہلے بیچ میں مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کا پتہ چلا، انہوں نے مظاہرے شروع کر دیے اور مطالبہ کیا کہ مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کالج کی زیادہ فنڈنگ ماتا ویشنو دیوی مندر کے عقیدت مندوں کی عطیات سے کی جاتی ہے، اس لیے مسلم طلبہ کا وہاں داخلہ مناسب نہیں۔ ہفتوں تک احتجاج جاری رہا اور مظاہرین روزانہ کالج کے دروازوں کے باہر جمع ہو کر نعرے لگاتے رہے۔ ساتھ ہی، وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ قانون سازوں نے کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو درخواستیں بھیجی، جس میں کہا گیا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میں داخلے صرف ہندو طلبہ کے لیے مخصوص کیے جائیں۔ بعد ازاں، مظاہروں میں شدت آنے پر کالج کی بندش کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔ شدید مظاہروں کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے 6 جنوری کو اعلان کیا کہ کالج حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتا اور اس کی پہچان منسوخ کر دی گئی ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن کے مطابق کالج میں تدریسی عملے، بیڈ کی تعداد، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹز میں مریضوں کی تعداد، لائبریری اور آپریٹنگ تھیٹرز میں سنگین کمی ہے۔ اگلے دن، کالج کو کام کرنے اور کورسز چلانے کی اجازت دینے والا لیٹر آف پرمیشن بھی واپس لے لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ کالج میں مسلمانوں کی شمولیت کے خلاف مہم چلانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادی ہندو گروپس ملوث ہیں۔

PM Shehbaz Sharif Reaffirms Commitment to “One China” Policy in Meeting with Chinese vice minister
by Ehsanullah on January 15, 2026 at 3:03 am
PM reiterated his invitation to Xi Jinping to visit Pakistan officially this year, as the year holds special significance and a milestone for both countries.

Erika Kirk and Marjorie Taylor Greene are playing with the same archetype
by Web Desk on January 15, 2026 at 2:01 am
As President Donald Trump settles into his last term, his approval ratings sinking ever lower, an urgent new question has begun to coalesce at the center of MAGA: Would the movement survive without Trump’s force of personality? What kind of person has the jui…

AI is uncannily good at diagnosis. Its makers just won’t say so.
by Web Desk on January 15, 2026 at 2:00 am
How often have you asked ChatGPT for health advice? Maybe about a mysterious rash or that tightening in your right calf after a long run. I have, on both counts. ChatGPT even correctly diagnosed that mysterious rash I developed when I first experienced Boston…

The Supreme Court seems poised to deliver another blow to trans rights
by Web Desk on January 15, 2026 at 2:00 am
There was never much reason to hope that the Supreme Court, which heard two cases on Tuesday asking whether transgender women have a right to play women’s high school or college sports, was going to side with those athletes. The Court has a 6-3 Republican maj…

The research on microplastics in our bodies is terrifying. It might also be wrong.
by Web Desk on January 15, 2026 at 2:00 am
This story originally appeared in The Guardian as an exclusive and is republished here as part of the Climate Desk collaboration. High-profile studies reporting the presence of microplastics throughout the human body have been thrown into doubt by scientists …

Are blockbuster NBA trades actually worth it? We evaluated 14 big deals since 2013
by Web Desk on January 15, 2026 at 1:00 am
As teams shy away from dealing first-rounders for stars, which trades have been the biggest successes and utter failures?

Bangladesh Cricket Board removes Finance Chairman over controversial statements
by Ehsanullah on January 15, 2026 at 12:58 am
The board also expressed hope that players will participate in the Bangladesh Premier League to ensure its continuity.

Pakistan vs Sri Lanka: A thrilling contest showcases competitive cricket
by Ehsanullah on January 15, 2026 at 12:44 am
The match highlighted the depth of talent on both sides and reinforced the historic rivalry between Pakistan and Sri Lanka.

TGL best moments: Fowler, New York beats Jupiter Links
by Web Desk on January 15, 2026 at 12:00 am
New York Golf Club pulled off an impressive comeback, beating Jupiter Links Golf Club, 8-3, on Tuesday night.

Shelton shakes off ‘rust,’ reaches Auckland QFs
by Web Desk on January 15, 2026 at 12:00 am
– Eighth-ranked Ben Shelton “knocked off the rust” in his first match of 2026 on Wednesday with a 7-5, 6-4 win over Francisco Comesana in the ATP Tour event in Auckland, New Zealand.

Raducanu overcomes delay, wins Hobart match
by Web Desk on January 15, 2026 at 12:00 am
Emma Raducanu claimed her first victory of the new season after fighting back to see off Camila Osorio at the Hobart International.

Here are over 20 gadgets that’ll help you achieve your New Year’s resolutions
by Web Desk on January 15, 2026 at 12:00 am
It happens every year: we set ambitious New Year’s resolutions – work out more, spend less, keep the house cleaner – full of optimism and motivation. Then life happens, and suddenly it’s June and you can’t recall what your resolutions even were. But it doesn’…

The latest on Grok’s problem with gross AI deepfakes
by Web Desk on January 15, 2026 at 12:00 am
The launch of an AI image editing feature on xAI’s Grok has caused chaos on X after it was used to generate a flood of non-consensual sexualized deepfakes. As Hayden Field wrote, “screenshots show Grok complying with requests to put real women in lingerie and…

Shehbaz Sharif inaugurates Pakistan Assan Khidmat Markaz
by Ehsanullah on January 14, 2026 at 10:25 pm
that institutions such as NADRA, the MOFA, police, and other departments will operate at this center to provide services to the public:PM

PM Shebaz directs strategy for profitable commercial use of Pakistan Railways
by Ehsanullah on January 14, 2026 at 9:50 pm
He emphasized that a modern railway system could play a significant role in economic development and increasing national revenue.

FO urges India to refrain from baseless rhetoric against Pakistan
by Ehsanullah on January 14, 2026 at 9:47 pm
Indian state sponsored terrorism is well documented and alluded to the arrest of Indian serving officer Kulbhushan Jadhav:Tahir Andrab

What Apple and Google’s Gemini deal means for both companies
by Web Desk on January 14, 2026 at 9:01 pm
For years, Apple and Google have had a will-they-won’t-they type of relationship, as far as which AI company Apple would pick to underpin its Siri virtual assistant and give it new AI-fueled personalization and agentic capabilities. Apple has spent the last y…

The first three Lego Pokémon sets launch in February and include a $650 diorama
by Web Desk on January 14, 2026 at 9:01 pm
After teasing its first collaboration with the Pokémon franchise last March but sharing very few details, Lego’s first Pokémon sets are now available for preorder through the company’s online store. The cheapest of the three is an articulated version of Eevee…
Trump says US control of Greenland ‘vital’ for air defense
by Faisal Ali Ghumman on January 14, 2026 at 5:18 am
“The United States needs Greenland for the purpose of National Security. It is vital for the Golden Dome that we are building,” Trump, who has vowed to seize the Arctic island from ally Denmark, wrote on social media

The enormous stakes of Donald Trump’s fight with Jerome Powell
by Web Desk on January 14, 2026 at 2:00 am
On Sunday night, Federal Reserve chair Jerome Powell gave a surprise video statement declaring he was under threat of criminal indictments, having been served with grand jury subpoenas from the Department of Justice. On paper, the matter was over cost overrun…